ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان:اسلامی معاشرے کے میاں بیوی ۔۔۔!!
مذہب اسلام دنیا کا واحد مذہب ھے جسے بناء شک و شبہاب اعتراضات اور تنقید کے کہہ سکتے ہیں یہ دین پاک و شفاف، طہارت اور مطہرات، نفیس و عزیز، جسم و روح کی تازگی، عقل و شعور، تہذیب و ادب، گوکہ پنہاں ہیں کشف کے تمام رموز۔ الله نے اپنے حبیب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا پسندیدہ ترین دین عطا کیا اور شرف بخشا امام الانبیاء کا، یہی نہیں بلکہ اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے امتِ محمدی کو بھی تمام امت پر فضیلت بخشی لیکن اس کیلئے حکم ربانی اور اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مشروط رکھا گیا لیکن انعامات میں ظاہر و باطن ایسے نوازے جو صرف رب العزت کا ہی حق ھے۔ اسی تناظر میں، میں نے اپنے دوست محمد عقیل احمد کی تحریر پڑھی تو سوچا اپنے کالم کی زینت بناؤ وہ لکھتے ہیں کہ ایک مرد و عورت کی شادی ہوئی اور ان کی زندگی ماشاءالله خوشیوں سے بهری تهی ۔شوہر ایک دن بیوی سے: تم نے آج نماز نہیں پڑھی۔۔۔؟بیوی: میں تھک گئی تھی، اس لئے نہیں پڑهی، صبح پڑھ لونگی۔ شوہر کو یہ بات بری لگی مگر اس نے بیوی سے کچھ نہ کہا. خود نماز پڑهی تلاوت کی اور سوگیا. شوہر دوسرے دن بیوی کے اٹهنے سے پہلے ہی نماز پڑھ کر دفتر کیلئے نکل گیا۔ بیوی اٹهی۔ شوہر کو نہ پا کر بہت پریشان ہوئی کہ اس سے پہلے ایسا کبهی نہیں ہوا۔پریشانی کے عالم میں شوہر کو فون کیا لیکن کال اٹینڈ نہیں ہوئی۔ بار بار کال کی مگر جواب ندارد۔ بیوی کی پریشانی بڑھتی ہی جارہی تهی۔ کچھ گھنٹے بعد کال کی تو شوہر نے اٹینڈ کی۔
بیوی نے ایک سانس میں نہ جانے کتنے سوال کردیئے. کہاں تھے آپ۔؟ کتنی کالز کی میں نے جواب نہیں دے سکتے تهے۔ پتہ ہے یہ وقت مجھ پہ کیسے گزرا۔ آپ کو ذرا خیال نہیں. کم سے کم بتا تو سکتے تهے. شوہر کی آواز اس کے کانوں میں پڑی کہ تهکا ہوا تها اس لیئے لیٹ گیا تو نیند آگئی۔ بیوی: دو منٹ کی کال کرکے بتادیتے تو کتنی تهکاوٹ بڑھ جاتی۔ آپکو مجھ سے ذرا پیار نہیں.
شوہر نے تحمل سے جواب دیا: کل آپ نے بھی تو اس پاک ذات کی کال کو نظر انداز کیا۔ کیا آپ نے حی علی الفلاح کی آواز سنی تهی۔۔؟؟ وہ خدا کی کال تهی جو آپ نے تهکاوٹ کیوجہ سے نہیں سنی۔ اسوقت بهی پانچ منٹ کی بات تهی. نماز پڑھنے سے آپکی تهکاوٹ کتنی بڑھ جاتی۔۔؟ کیا آپ کو اپنے اس پروردگار سے اتنا پیار بهی نہیں جس نے آپ کو سب کچھ دیا. کیا پروردگار کو یہ بات پسند آئی ہوگی. بیوی پر سکتہ طاری ہوگیا اور روتے ہوئے بولی: مجھے معاف کر دیں۔ مجھ سے غلطی ہوگئی۔ میں سمجھ گئی ہوں۔ میں سچے دل سے استغفار کرتی ہوں۔ میرے پروردگار مجهے معاف فرما۔ سچا شریک حیات وہی ہے جو آپ کو دنیاوی تحفظ اور خوشیوں کیساتھ ساتھ آخرت میں بهی سرخرو کروائے اور آپ کے ساتھ کھڑا ہو اور آپ کو بھٹکنے سے بچائے.الله تعالی ہم سب کو نماز پڑهنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔۔۔۔آمین اللّٰه تعالیٰ میری غلطیوں کو معاف فرمائے۔۔معزز قارئین!! میں تحریر پڑھ کر سوچ میں پڑگیا اور اپنا احتساب کرنے کے ساتھ ساتھ اطراف نظر دوڑائی تو دینی احکامات کی تکمیل میں بہت دور پایا۔ معاشرے کے ہاتھوں میں اینڈرائٹ سیل دیکھے میں افسوس نہ قرآن کا مطالعہ نہ احادیث پر غور تھا تو ہر طرف ٹک ٹاک و دیگر فضول شیطانی اور وقت ضیا میں مشغول دیکھے۔ معاشرے میں پھیلنے والی برائیوں ذہنی بیماریوں کو بیرونِ ملک سے ھونے والی ان ایپس کو سہولتکاروں کی طرح دیکھا دیکھ تو یہ بھی مگر قلیل افراد اور طبقوں میں کہ اچھی ایپس سے ملک و قوم اور دین کی خدمات پیش کی جارہی ہیں مقصد یہ کہ ھم سب کی ذمہداری ھے کہ اپنی نسلوں کو اچھی اور بری ایپس کی آگاہی فراہم کریں اور دین کی اہمیت و فضلیت کو نسلوں میں اس طرح پیوست کریں کہ وہ بہترین شخصیت اور نافع بن کر ابھریں الله ھم سب کو صراط المستقم پر قائم رکھے آمین۔۔۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی
