کالم/مضامین

عنوان:آپ میں اور حکمران

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان:آپ میں اور حکمران۔۔۔۔!!

موجودہ زمانے میں آپ میں اور حکمران ریاست پاکستان جو دنیا میں خالصتاً دینِ محمدی اسلام کے نظریہ پر وجود میں آیا تھا جو وقت کےحکمرانوں کی عیاشیوں بدکاریوں کے سبب اسلامی شعائر اور قوانین سے کوسوں دور کردیا گیا اس میں جہاں اقتدار پر برجمان قصور وار ہیں وہیں آپ اور میں کسی طور اس جرم سے آزاد نہی۔ اب ریاستِ مدینہ کا نام لینے والے سابقہ مکار فریبی جھوٹے سیاستدان جو اپنے مفادات کیلئے پارٹیاں بدلنے والی کیونکر اور کس طرح ریاستِ پاکستان کو اسلامی ریاست بناسکیں گے یہ جانتے ھوئے بھی کہ ایوان اور اسمبلی میں کثیر ترین تعداد اسلام مخالفین ممبرانوں کی ھے اس کی سب سے بڑی وجہ گزشتہ سالوں میں پیش ھونے والا بل شراب پر پابندی کی مخالفت انہی قانون سازوں نے کی تھیں لعنت ھو انپر اور لعنتی رہیں گے کیونکہ سود کو جاری رکھنے اور سود کو ختم کرنے پر بھی ان خبیثوں کی خباثتیں قائم ہیں۔ ان میں کتنے ایسے خاندان ہیں جن کے آباؤ اجداد مملکت پاکستان کے خلاف رہے اور دشمنانانِ پاکستان سے یہی نسلیں ساز باز کرتی پھرتی ہیں اسی سبب غلیظ خبیث قادیانی مرزائی کتے اب وطن عزیز میں بھونکتے پھرتے نظر آتے ہیں انکی سورانہ حرکتیں ظاہری و پوشیدہ جاری ھیں دین اسلام کے سب سے خبیث و غلیظ دشمن یہی ہیں جو بھی انکا سہولتکار ھے آئین کے مطابق اس کے خلاف اقدامات کیوں نہیں کیئے جاتے یونہی خاموشی ریاستِ پاکستان کیلئے نقصان دہ ثابت ھوگی بہتر ھے کہ قادیانی مرزائی موذی سانپ کا سر کچل دیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! حالیہ دنوں میں میری نگاہ کتاب ریاض الناصحین ص:۱۰۵،۱۰۴ پر پڑی اس میں ایک تحریر کا مطالعہ کیا اس میں جو لکھا تھا اس پر کالم تحریر اپنے قارئین کی خدمت میں پیش کررھا ھوں یوں تو یہ سچا واقعہ برسوں پرانا ھے مگر اس واقعہ میں ہمارے لیئے روشن راہیں صراط المستقیم اور ایمانی طاقت کے طفیل عقیدہ و یقین کی مضبوطی سے غیبی امداد کی یقینی گوکہ ایک مومن کی شان نظر آتی ھے۔ لقمہ حلال’ صبر و شکر’ قناعت اور ذکر الله کی تسبیچ سے پیدا ھونے والی نوری شعاعیں اور بارگاہِ الہیٰ میں مقبولیت اور منزلت جیسی سعادتوں کے راز بھی افشاں نظر آئے۔۔۔معزز قارئین!! کتاب میں لکھا تھا کہ عبداللہ طاہر جب خراسان کے گورنر تھے اور نیشاپور اس کا دارالحکومت تھا تو ایک لوہار شہر ہرات سے نیشاپور گیا اور چند دنوں تک وہاں کاروبار کیا پھر اپنے اہل و عیال سے ملاقات کیلئے وطن لوٹنے کا ارادہ کیا اور رات کے پچھلے پہر سفر کرنا شروع کردیا۔ ان ہی دنوں عبد الله طاہر نے سپاہیوں کو حکم دے رکھا تھا کہ وہ شہر کے راستوں کو محفوظ بنائیں تاکہ کسی مسافر کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو۔اتفاق ایسا ہوا کہ سپاہیوں نے اسی رات چند چوروں کو گرفتار کیا اور امیر خراسان یعنی عبد الله طاہر کو اس کی خبر بھی پہنچا دی لیکن اچانک ان میں سے ایک چور بھاگ گیا۔ اب یہ گھبرائے اگر امیر کو معلوم ہوگیا کہ ایک چور بھاگ گیا ہے تو وہ ہمیں سزا دے گا۔ اتنے میں انہیں سفر کرتا ہوا یہ لوہار نظر آیا۔ انھوں نے اپنی جان بچانےکی خاطر اس بے گناہ شخص کو فوراً گرفتار کرلیا اور باقی چوروں کے ساتھ اسے بھی امیر کے سامنے پیش کردیا۔ امیر خراسان نے سمجھا کہ یہ سب چوری کرتے ہوئے پکڑے گئے ہیں اس لئے مزید کسی تفتیش و تحقیق کے بغیر سب کو قید کرنے کا حکم دیدیا۔ نیک سیرت لوہار سمجھ گیا کہ اب میرامعاملہ صرف الله جل شانہ کی بارگاہ سے ہی حل ہوسکتا ہے اور میرا مقصد اسی کے کرم سے حاصل ہوسکتا ہے لہٰذا اس نے وضو کیا اور قیدخانہ کے ایک گوشہ میں نماز پڑھنا شروع کردی۔ہر دو رکعت کی بعد سر سجدہ میں رکھ کر الله تعالیٰ کی بارگاہ میں رقت انگیز دعائیں اور دل سوز مناجات شروع کردیتا اور کہتا۔ *’’ اے میرے مالک! تو اچھی طرح جانتا ہے میں بےقصور ہوں‘‘۔* جب رات ہوئی تو عبد الله طاہر نے خواب دیکھا کہ چار بہادر اور طاقتور لوگ آئے اور سختی سے اس کے تخت کے چاروں پایوں کو پکڑکر اٹھایا اور الٹنے لگے اتنے میں اس کی نیند ٹوٹ گئی۔ اس نے فوراً *لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ* پڑھا۔ پھر وضو کیا اور اس احکم الحاکمین کی بارگاہ میں دو رکعت نماز ادا کی جس کی طرف ہر شاہ و گدا اپنی اپنی پریشانیوں کے وقت رجوع کرتے ہیں۔ اس کے بعد دوبارہ سویا تو پھر وہی خواب دیکھا اس طرح چار مرتبہ ہوا۔ ہر بار وہ یہی دیکھتا تھا کہ چاروں نوجوان اس کے تخت کے پایوں کو پکڑ کر اٹھاتے ہیں اور الٹنا چاہتے ہیں۔ امیر خراسان عبد الله طاہر اس واقعہ سے گھبرا گئے اور انہیں یقین ہوگیا کہ ضرور اس میں کسی مظلوم کی آہ کا اثر ہے جیسا کہ کسی صاحب علم و دانش نے کہا ہے:
*نکند صد ہزار تیر و تبر*
*آنچہ یک پیرہ زن کند بہ سحر*
*ای بسا نیزۂ عدد شکناں*
*ریزہ گشت از دعاے پیر زناں*
یعنی لاکھوں تیر اور بھالے وہ کام نہیں کرسکتے جو کام ایک بڑھیا صبح کے وقت کردیتی ہے۔ بارہا ایسا ہوا ہے کہ دشمنوں سے مردانہ وار مقابلہ کرنے اورانہیں شکست دینے والے، بوڑھی عورتوں کی بد دعا سے تباہ وبرباد ہوگئے۔ امیر خراسان نے رات ہی میں جیلر کو بلوایا اور اس سے پوچھا کہ بتاؤ! تمہارے علم میں کوئی مظلوم شخص جیل میں بند تو نہیں کردیا گیا ہے؟ جیلر نے عرض کیا۔ عالیجاہ! میں یہ تو نہیں جانتا کہ مظلوم کون ہے لیکن اتنی بات ضرور ہے کہ میں ایک شخص کو دیکھ رہا ہوں جو جیل میں نماز پڑھتا ہے اور رقت انگیز و دل سوز دعائیں کرتا ہے۔امیر نے حکم دیا: اسے فوراً حاضر کیا جائے۔ جب وہ شخص امیر کے سامنے حاضر ہوا تو امیر نے اس کے معاملہ کی تحقیق کی۔معلوم ہوا کہ وہ بے قصور ہے۔ امیر نے اس شخص سے معذرت کی اور کہا: آپ میرے ساتھ تین کام کیجئے۔
نمبر۱۔ آپ مجھے معاف کردیں۔
نمبر۲۔ میری طرف سے ایک ہزار درہم قبول فرمائیں۔
نمبر۳۔ جب بھی آپ کو کسی قسم کی پریشانی درپیش ہو تو میرے پاس تشریف لائیں تاکہ میں آپکی مدد کرسکوں نیک سیرت لوہار نے کہا: آپ نے جو یہ فرمایا ہے کہ میں آپکو معاف کردوں تو میں نے آپکو معاف کردیا اور آپ نے جو یہ فرمایا کہ ایک ہزار درہم قبول کرلوں تو وہ بھی میں نے قبول کیا لیکن آپ نے جو یہ کہا ہے کہ جب مجھے کوئی مشکل درپیش ہو تو میں آپکے پاس آؤں، یہ مجھ سے نہیں ہوسکتا۔ امیر نے پوچھا: یہ کیوں نہیں ہوسکتا؟ تو اس شخص نے جواب دیا کہ وہ خالق و مالک جل جلالہ جو مجھ جیسے فقیر کیلئے آپ جیسے بادشاہ کا تخت ایک رات میں چارمرتبہ اوندھا کرسکتا ہے تو اس کو چھوڑ دینا اور اپنی ضرورت کسی دوسرے کے پاس لے جانا اصولِ بندگی کے خلاف ہے۔ میرا وہ کون سا کام ہے جو نماز پڑھنے سے پورا نہیں ہوجاتا کہ میں اسے غیر کے پاس لے جاؤں یعنی جب میرا سارا کام نماز کی برکت سے پورا ہوجاتا ہے تو مجھے کسی اور کے پاس جانے کی کیا ضرورت ہے۔۔۔۔ معزز قارئین!! اس تحریر کے بعد مجھے شدید ترین احساس ھوا کہ آپ میں اور حکمران ہم سب کس قدر غافل اور دین سے دور ھوچکے ہیں کہ جس کی وجہ سے ھمارا ملک الله اور اسکے حبیب محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت برکت فضل و کرم کی بارش سے محروم ھوتا جارہا ھے جو روحانی سکون میسر آنا چاہیئے تھا وہ سب ناپید ھوچکا ھے آپ میں اور حکمران کفار و مشرکین سے خائف رہنے لگے ہیں اور ایمان کی نویت یہ آچکی ھے کہ الله اور اسکے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی قبول مگر مشرکین ممالک کی خفا کا ڈر استغفرالله ۔۔۔۔ ہمیں قرآن و سنت کے مطابق تبدیلی لانی ھوگی ہمیں قرآن و سنت کے مطابق نیا پاکستان بنانا ھوگا کسی کے باپ کی جاگیر نہیں یہ پاکستان عطائے خداوندی ھے اور محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ھے۔ اس آزادی کا جتنا بھی شکر کریں کم ھے الله ھمارے پاکستان کو صحیح معنوں میں اسلامی ریاست بنا جہاں خراسان کے گورنر عبدالله طاہر جیسے حکمران ھوں۔ تاریخ شاہد ھے کہ جس ریاست کے امیر و حکمران چاروں خلفائے راشدین’ متقی و پرہیزگار سپہ سالار اور عدل و انصاف کے رہبر خوف خدا رکھنے والے بادشاہ ھوں تو وہاں کی اسلامی ریاست بھی مثالی رہی اور جن اسلامی جمہوری حکومتوں کے وزراء صوم و صلواۃ کے پابند اور حقوق العباد میں بہت آگے ھوں انھوں نے بھی بہترین حکومتیں بنائی ہیں لیکن آدھا تیتر آدھا بٹیر والے نام نہاد مسلم رہنماؤں نے سوائے بربادی ظلم و بربریت اور حق تلفیوں کے سوا کچھ نہ دیا ان مسلم ممالک میں پاکستان صفِ اول پر ھے۔الله پاکستان کو اپنے پسندیدہ بندوں کے سپرد اس ملک کی باگ ڈور عطا فرمادے تاکہ وہ نیک بندہ قانونِ شریعت کے تحت نظام ریاست قائم کرسکے بناء سست روی خوف و ڈر کے کیونکہ جس کو صرف الله کا ڈر ھوتا ھے وہ برائی اور برے کا سر تن سے جدہ کرنے میں لمحہ ضائع نہیں کرتا۔ اے رب تو میرے پاکستان اور اس عوام کو ہمیشہ شاد و آباد رکھ
آمین ثما آمین ۔۔۔۔۔!!

کالمکار: جاوید صدیقی

MKB Creation

Mehr Asif

Chief Editor Contact : +92 300 5441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

MKB Creation
Back to top button

I am Watching You