BBC Urdu TV

صوبوں کی مخالفت اور کوٹہ سسٹم —* *میرٹ، مساوات اور حقوقِ شہری کا سوال

*صوبوں کی مخالفت اور کوٹہ سسٹم —* *میرٹ، مساوات اور حقوقِ شہری کا سوال*

*عنوان: صوبوں کی مخالفت اور کوٹہ سسٹم، اور حقوقِ شہری کا سوال*

*کالمکار: جاوید صدیقی، جرنلسٹ کراچی*

پاکستان میں صوبائی انتظام، شہری مساوات، میرٹ اور کوٹہ سسٹم کا معاملہ ایک عرصے سے سیاسی، سماجی اور آئینی بحث کا موضوع چلا آرہا ہے۔ خصوصاً سندھ میں کوٹہ سسٹم کے تسلسل نے میرٹ، مساوی مواقع اور شہری حقوق کے حوالے سے مختلف حلقوں میں سوالات کو جنم دیا ہے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ریاستی ملازمتوں اور تعلیمی مواقع کی تقسیم کا ایسا نظام ہونا چاہیے جس میں کسی امیدوار کی اہلیت کے ساتھ ساتھ اس کا علاقائی یا انتظامی تعلق بھی فیصلہ کن حیثیت اختیار کرلے؟ اگر کسی نظام کے نتیجے میں زیادہ اہل امیدوار صرف کسی مخصوص کوٹے کی وجہ سے پیچھے رہ جائے تو اس نظام کی شفافیت، افادیت اور انصاف کے تقاضوں کا ازسرنو جائزہ لینا ضروری ہوجاتا ہے۔ کوٹہ سسٹم کے حامیوں کا مؤقف یہ رہا ہے کہ پسماندہ علاقوں اور کم نمائندگی رکھنے والے طبقات کو مواقع فراہم کرنے کے لیے مخصوص عرصے تک خصوصی اقدامات ضروری ہوسکتے ہیں۔ دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر ایسا انتظام طویل عرصے تک جاری رہے تو یہ مستقل تقسیم، علاقائی شناخت اور میرٹ کے بارے میں احساسِ محرومی کو تقویت دے سکتا ہے۔ یہاں ایک اہم سوال حقوق العباد کا بھی ہے۔ قرآن مجید عدل، امانت اور حق کی ادائیگی پر واضح زور دیتا ہے۔ سورۃ النساء آیت 58 میں امانتیں اہل لوگوں کے سپرد کرنے اور لوگوں کے درمیان فیصلہ کرتے وقت انصاف کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، جبکہ سورۃ النساء آیت 135 میں انصاف پر مضبوطی سے قائم رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ان تعلیمات کی روشنی میں ریاستی معاملات میں انصاف، دیانت اور حق دار تک حق پہنچانے کے اصولوں کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔تاہم کسی مخصوص حکومتی پالیسی کو براہِ راست ’’قرآن کی مخالفت‘‘ یا اس کے حامیوں کو دینی اعتبار سے مجرم قرار دینا ایک حساس مذہبی اور قانونی معاملہ ہے، جسے جذبات کے بجائے مستند علمی، آئینی اور قانونی دلائل کے ساتھ زیرِ بحث لانا چاہیے۔ سندھ میں کوٹہ سسٹم کے حوالے سے اب بنیادی بحث یہ ہونی چاہیے کہ آیا موجودہ نظام اپنے مقررہ مقاصد پورے کرچکا ہے، آیا اس کی مدت اور اطلاق کا ازسرنو جائزہ لیا جانا چاہیے، اور کیا ایسا متبادل نظام تشکیل دیا جاسکتا ہے جو حقیقی پسماندگی کا ازالہ بھی کرے اور میرٹ و مساوی مواقع کے اصول کو بھی مضبوط بنائے۔ صوبوں کی مخالفت یا حمایت سے زیادہ اہم سوال عوام کے بنیادی حقوق اور ریاستی نظام کی کارکردگی کا ہے۔ اگر نئے انتظامی یونٹس یا نئے صوبے انتظامی سہولت، بہتر حکمرانی اور عوامی خدمات کی فراہمی میں بہتری لا سکتے ہیں تو اس امکان پر بھی کھلے ذہن کے ساتھ آئینی اور جمہوری طریقے سے غور ہونا چاہیے۔ پاکستان کا مستقبل ایسی پالیسیوں کا تقاضا کرتا ہے جن میں نہ کسی علاقے کے شہری کو محرومی کا احساس ہو، نہ کسی اہل امیدوار کے ساتھ ناانصافی ہو اور نہ ہی کسی کمزور طبقے کو اس کے جائز حق سے محروم رکھا جائے۔ اصل مقصد کسی صوبے، زبان یا طبقے کو شکست دینا نہیں بلکہ ایسا منصفانہ نظام تشکیل دینا ہونا چاہیے جس میں شناخت سے پہلے اہلیت، سفارش سے پہلے میرٹ اور مفاد سے پہلے قومی و عوامی حق کو ترجیح حاصل ہو۔سوال آج بھی وہی ہے: کیا کوٹہ سسٹم مستقل حل ہے، یا وقت آگیا ہے کہ مساوی مواقع، میرٹ اور حقیقی پسماندگی کے ازالے پر مبنی ایک نیا، شفاف اور قابلِ احتساب نظام تشکیل دیا جائے؟

Exit mobile version