صحافت اور صحافتی اداروں میں جعل ساز متحرک
دودھ فروش سبزی فروش اور اب قصاب بھی صحافی بن رہے ہیں۔ پاکستان بھر کے یوجیز کے عہدیداران و ذمہداران اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے ایسے جعل ساز صحافی اور انکے اداروں کا محاسبہ کرکے انہیں مقدس پیشہ صحافت سے بے دخل کریں اس کیلئے وفاق سمیت صوبائی حکومتوں کے محکمہ نشر و اشاعت کیلئے مل بیٹھ کر مشاورت کیساتھ لائحہ عمل تیار کریں اور اسے وزیراعلیٰ سمیت آئی جیز سے سفارش کی جائے کہ جعل ساز صحافیوں کی روک تھام کیلئے سخت اقدامات کیئے جائیں کیونکہ جعل ساز صحافیوں کے سبب میڈیا انڈسٹری عوام الناس میں جگ ہنسائی بنی ھوئی ھے جعلی صحافی و رپورٹرز اپنے منفی کردار سے بدنامی پھیلارہے ہیں ان کے کردار سے شعبہ صحافت کی ساکھ کو نقصان پہنچ رہا ھے۔ صحافی شفاف با کردار مہذب بااخلاق اور با ضمیر کا مالک ھوتا ھے وہ نہ بکتا ھے اور نہ ہی جھکتا ھے۔ صحافی غیر سیاسی اور غیر جماعتی ھوتا ھے۔
جاوید صدیقی ایگزیکٹو ممبر کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور گروپ و ممبر کراچی پریس کلب
