(صائمہ سحر) زرائع کے مطابق جھلم ڈی ایچ کیو میں حالات نہ سدھر سکے ۔عوام آج بھی مفت علاج معالجے کے لئے خوار ہو رہی ہے ۔
تفصیلات کے مطابق جھلم کی ایک خاتون کے پیٹ میں ہی بچے کی موت واقع ہو گئی اور دو دن وہ خاتون جھلم ڈی ایچ کیو میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہی ۔دو دن کے کے بعد آج صبح آپریشن کیا گیا ہے ۔لواحقین کے مطابق نہ تو ڈاکٹر وزٹ کرتے ہیں نہ مکمل تعاون کیا جاتا ہے ۔اخر کب تک عوام یوں زلیل و خوار ہوتی رہے گی ؟؟ اگر وہ خاتون خدانخواستہ جانبحق ہو جاتی تو اس معاملے کو دبا دیا جاتا ۔مجھے کل رابطہ کیا گیا لیکن میں میسجز چیک نہ کر سکی ۔ایم۔ایس اور ڈی سی جھلم سے ایک سوال ہے کہ کیوں سیریس کنڈیشن والے مریضوں کو ترجیحی بنیادوں پر علاج معالجہ فراہم نہیں کیا جاتا ؟؟؟ کیوں مریض کو مرنے کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے ؟؟؟ ڈاکٹر حضرات کو بھی چھٹی ٹائم کا انتظار رہتا ہے تاکہ اپنے پرائیوٹ ہسپتالوں میں جا کر مکمل وقت دے سکیں ۔اور پیسے کما سکیں۔لیکن جو عوام دن رات ٹیکس دیتی ہے جسکو دو وقت کی روٹی کی تگ و دو جان نہیں چھوڑتی ہے تو وہ عوام کیسے پرائیوٹ ہسپتالوں میں جا کر ذبح ہو اور پیسہ بہائے؟؟؟ کیوں ہمارے جھلم کا ہسپتالوں کا نظام سدھار نہیں لاتا؟؟؟ خبر لگائیں تو ڈاکٹر حضرات ہڑتالیں کر کے بیٹھ جاتے ہیں ۔ایک بار سبکو ٹکا کر معطل کیا جائے تاکہ دوبارہ اس طرح کا فعل سامنے نہ آئے ۔اور تمام سرکاری ہسپتالوں میں کام کرنے والے ڈاکٹروں کے پرائیوٹ ہسپتالوں کو seal سیل کیا جائے تاکہ غریب عوام کو مفت علاج کہ سہولت بروقت فراہم ہو سکے ۔نہ کہ پنڈی ریفر کر کے جان چھڑائی جائے یا پھر چھٹی منانے والے ڈاکٹروں کا انتظار کرتے مریض جان سے جائیں ۔۔۔۔حقیقت تلخ تو بہت ہے لیکن آج پھر اس عوام کے درد نے لکھنے پر مجبور کیا ہے ہم صحافی تنخواہیں نہیں لیتے ہیں لیکن عوام کا درد اجاگر کرتے قلم کا استعمال کرتے برے بنتے ہیں اور اداروں کو دشمن بناتے ہیں ۔یہ بھی جھلم کے ایک شہری کی داستان ہے اور لاکھوں دوسرے لوگوں کی ۔۔۔۔
جھلم کی عوام کی اپیل ہے کہ ڈی سی جھلم سختی سے نوٹس لیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
