شہدادپور(نامہ نگار ) پنو عاقل کے علاقے مھران کالونی میں گزشتہ چند روز قبل نامعلوم ملزمان کی جانب سے گھر میں گھس کر گھر میں موجود فیملی کو یرغمال بناکر لاکھوں روپے کی ڈکیتی کرنے کے بعد محمد اکرم آرائیں کے معصوم سات سالہ بچے حسین آرائیں کو اغواء کرکے اپنے ہمراہ لے جانے کے اس واقعے کی ہم پرزور مذمت کرتے ہیں اور ملکی قانون نافذ کرنے والے ریاستی اداروں و سندھ کے اعلیٰ حکام سے فوری طور پر بچے کی بحفاظت رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں، ان خیالات کا اظہار مرکزی تنظیم آرائیاں پاکستان ضلع سانگھڑ کے انفارمیشن سیکریٹری عمران خان آرائیں، چوہدری غلام مصطفیٰ آرائیں ودیگر نے شہدادپور پریس کلب کے سامنے حسین آرائیں کی بازیابی کیلئے کیئے جانے والے احتجاجی مظاہرے کے دوران میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر شہدادپور آرائیں برادری کی معزز شخصیات محمد رمضان آرائیں، محمد آصف ریاض آرائیں، عمران علی آرائیں، قربان علی آرائیں، ارسلان علی آرائیں، محمد ارسلان آرائیں، امیر حمزہ آرائیں ودیگر کا مزید کہنا تھا کہ پنوعاقل میں ڈکیتی کے دوران معصوم بچے حسین آرائیں کا اغواء افسوسناک عمل ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے حکومت سندھ و وفاقی حکومت کو اس حوالے سے سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے. جبکہ ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے عملی اقدامات کرنے کی اشد ضرورت ہے ہمارا مطالبہ ہے کہ ریاست حسین آرائیں کی باحفاظت بازیابی کیلئے فوری طور پر عملی اقدامات کرکے بچے کے ورثاء میں پائی جانے والی بیچینی کو ختم کرے،
اس احتجاجی مظاہرے میں مرکزی تنظیم آرائیاں پاکستان تعلقہ شہدادپور کے معززین سمیت شہریوں نے بھی کثیر تعداد میں شرکت کی۔
