BBC Urdu TV

سکھ اور سکون دماغ کا نہیں،دل کا معاملہ ہے۔امیر عبدالقدیر اعوان

سکھ اور سکون دماغ کا نہیں،دل کا معاملہ ہے۔امیر عبدالقدیر اعوان

آج کے پرفتن اور مادی دور میں دل کے سکون کی اہمیت اور زیادہ بڑھ گئی ہے۔حقیقی امن اور دلی سکون صرف اور صرف اللہ کے ذکر اور اللہ کی یاد سے ہی ممکن ہے۔قرآن کریم اور محمد الرسول اللہ ﷺ کی تعلیمات سے ہمیں راہنمائی ملتی ہے کہ زندگی میں اعتدال کیسے آئے گا۔قلب انسانی کیفیات کا گھر ہے۔اسی قلب میں محبت بھی بستی ہے اور نفرت بھی اسی میں لالچ بھی ہے اور صبر بھی۔جب بات دل کی آئے گی تو بندہ اس جہان فانی میں اپنی ایک تخیلاتی دنیا بسائے ہوئے ہے۔کہ مجھ جیسا کوئی نہ ہومیری حیثیت ایسی ہو،لوگ مجھے ایسا سمجھیں۔جب ہماری یہ خواہشات ٹوٹتی ہیں تو پھر ہمارے دل کی کرچیاں ہوتی ہیں جوہماری بے سکونی اور بے قراری کا سبب بنتی ہے۔
امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا کینیڈا کے شہر ایجیکس میں خواتین و حضرات سے سکون قلب کانفرنس میں خطاب۔
انہوں نے کہا کہ بندہ مومن کے متعلق یہ امور نہیں کہ وہ بے چین یا بے قرار ہو۔وہ تو ہر حال میں اپنے اللہ کی رضا میں راضی رہتا ہے پریشانی آجائے تو صبر کرتا ہے اگر کوئی خوشی نصیب ہو توشکر کرتا ہے۔دونوں کیفیات میں اللہ کی رضا نصیب ہوتی ہے۔معاملات زندگی ہر ایک کے ساتھ جڑی ہیں ہر ایک نے ان میں سے گزرنا ہے۔ہر ایک کا معاملہ طے شدہ ہے۔ہمارے رویے اور مزاج تلخ ہو جاتے ہیں ہم حق کو بھی ماننے سے انکار کرنے لگتے ہیں۔ہمارے نا ماننے سے حق تو نہیں بدل جائے گا۔بندہ مومن پر تو اللہ کریم کا اتنا احسان ہے کہ بندہ مومن کا ایک ایک لمحہ عبادت بن جاتا ہے اگر وہ اپنے تمام امور اللہ کے حکم کے مطابق کرے۔یہ بندہ مومن کا شرف ہے کہ وہ ہر وقت رکوع و سجود میں ہو۔مومن کی دنیا بھی دین بن جاتا ہے اور کافر کا دین بھی دنیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ درود شریف یہ ہے کہ ہمارا ایک ایک لمحہ سنت خیر الانام سے مزین ہو۔اتباع ایسا ہو کہ درود شریف کی عملی صورت بن جائے۔ہم اپنی تربیت پر توجہ دیں گے تو ہماری اولاد کی بھی تربیت ہوگی۔ہمارا حسن سلوک اچھا ہو گا تو ہمارے بچے بھی سمجھیں گے کہ بڑوں کا ادب اور احترام کیا ہے؟
یاد رہے کہ حضرت امیر عبدالقدیر اعوان کینیڈا اور امریکہ کے دورے پر ہیں جہاں مختلف شہروں میں پروگرامز منعقد کیے گئے ہیں جہاں آپ لیکچر دیتے ہیں۔اس بابرکت پروگرام میں کینیڈا میں مقیم پاکستانی اور مسلم کمیونٹی کی ایک بہت بڑی تعداد نے شرکت کی جس میں بزرگ،جوان اور خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔
آخر میں انہوں نے ذکر قلبی سکھایا اور امت مسلمہ کی سربلندی کے لیے خصوصی دعا بھی فرمائی۔

Exit mobile version