سولر سسٹم کے بادشاہ یعنی سورج کے سب سے قریب واقع سیاروں میں جو دوسرے نمبر

کیا ہوگا اگر ہم ایک دن زہرہ پر گزارتے ہیں ؟
سولر سسٹم کے بادشاہ یعنی سورج کے سب سے قریب واقع سیاروں میں جو دوسرے نمبر پر موجود سیارا ہے وہ ہے venus جسے زہرہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ زہرہ نا صرف زمین کا پڑوسی بلکہ ہم اسے زمین کی جڑوا بھی کہہ سکتے ہیں اور یہ رات کے وقت آسمان کا سب سے روشن ابجیکٹ بھی ہے۔
تحریر___کاشف احمد
ہم زہرہ سیارے کی سرفیس زمین سے نہیں دیکھ سکتے کیونکہ اس پلینیٹ کا سرفیس موٹے موٹے بادلوں سے گھرا ہوا ہے لیکن زمین سے بھیجے والے خلائی گاڑیوں نے ہمیں یہ ضرور بتایا ہے کہ اس پلینیٹ کے سرفیس پر آگ ابھلتے پہاڑ، اونچی چٹانیں اور لاوے موجود ہیں۔ اس سیارے کا ماحول شاید ماضی میں انسانوں کیلئے قابل قبول تھا لیکن آج یہ پلینیٹ انسانی زندگی کو قبول کرنے کیلئے راضی نہیں ہے۔
اس سیارے پر ایک دن گزارنے کے خواب دیکھنے والوں کو زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اس سیارے کا ٹیمپریچر اتنا زیادہ ہے کہ ایک سیسے کو بھی پھگلا سکتا ہے دوسری طرف اس سیارے کی فضاء بہت ہی زیادہ موٹی ہے جو آپ کو اس سیارے پر سانس لینے بلکل بھی نہیں دے گی بلکہ الٹا فضاء کی زیادہ وزن اور پریشر کی وجہ سے آپکی موت واقع ہوجائیگی۔
یہاں اس سیارے پر سب سے حیرانگی کی بات یہ ہے کہ یہاں ایک دن ایک سال سے بھی زیادہ لمبا ہوتا ہے کیونکہ یہ سیارا اپنے محور پر ایک تو الٹی سمت گھوم رہا ہے اور دوسری طرف یہ اتنا سلوں اپنے محور پر گھوم رہا ہے کہ اسکا ایک سال ایک دن سے لمبا ہوجاتا ہے مطلب یہ سورج کے گرد اپنا ایک چکر 224 دنوں میں مکمل کرتا ہے لیکن اپنے محور کے گرد 243 دنوں میں اسلئے یہاں ایک دن گزارنا ناممکن ہے۔
زہرہ کی سطح کا ٹیمپریچر 467 ڈگری سینٹی گریڈ رہتا ہے اور سطح کا پریشر زمین کی نسبت 92 گناہ زیادہ ہے۔ اگر آپ کو کسی جدید سپیس سوٹ کے ذریعے بھی اس سیارے پر چھوڑا جائے تو یہاں پر آپ زیادہ وقت نہیں ٹھک پاوگے کیونکہ کچھ ہی وقت میں آپ اس جہنم میں پگھل جائینگے۔ یہاں کی موٹی فضاء کی وجہ سے آپکو سورج بھی نظر نہیں آئے گا اور رات کے وقت تو وہاں ستاروں کا کوئی نام و نشان بھی نہیں ہوتا۔ دوسری طرف یہاں پر تیزاب کی بارش ہوتی ہے جس سے آپ بچ کر کہی بھی نہیں جاسکے گے۔ اس پلینیٹ کی سطح پر پریشر بہت زیادہ ہے اسلئے نا چاہتے ہوئے بھی جب آپ اس سیارے پر چلنے کی کوشش کرینگے تو ایک قدم اٹھانا بھی آپ کیلئے بے حد مشکل ہوگا اور آپ کیلئے کوئی کام کرنا بھی ممکن نہیں ہوگا۔
اس سیارے پر آپ کو آسمان کا رنگ orange کلر میں نظر آئے گا کیونکہ فضاء موٹی ہونے کی وجہ سے اس سیارے کی فضاء سورج کی روشنی کو جزب کرکے آسمان Orange رنگ کا نظر آتا ہے۔ زہرہ سیارے کی سرفیس کو زمین سے یا خلاء سے ایکسپلور کرنا ایک بہترین مشورہ ہے لیکن اس سیارے پر ایک گھنٹہ گزارنے کا مشورہ آپ کی زندگی کا لیا گیا سب سے بیکار مشورہ ہوگا لیکن ایک منٹ !!!
ہم امید کیوں ہار رہے ہیں؟
آپ کو یہ جان کر حیرانگی ہوگی کہ زہرہ کی سطح سے 50 کلو میٹر اوپر جب آپ جائینگے تو آپ کو بلکل زمین جیسے حالات دیکھنے کو ملینگے مطلب اوپر حالات زمین کی طرح ہی ہے اور یہ خیال کیا جاتا ہے کہ شاید زہرہ کی فضاء میں مائکرو لائف ہوسکتی ہے۔ حال ہی میں ماہرین کو اس سیارے سے کچھ ایسے مالیکولز بھی ملے ہیں جو وہاں خوردبینی زندگی کے ہونے کی شواہد پیش کرتے ہیں۔
سورج کی روشنی کو جزب کرنے والے یہ موٹے موٹے بادل جو اس سیارے پر تیزاب کی بارش برساتے ہیں اور سورج کی روشنی کو زہرہ کی سطح پر بہت کم پڑنے دیتی ہے شاید زہرہ کی ان فضاوں میں کسی قسم کی زندگی پنپ رہی ہو اور کیا پتا ان تیرتے ہوئے بادلوں میں انسان مستقبل قریب میں قدم رکھ سکے گا یا نہیں وہ تو وقت ہی بتائے گا ۔۔۔۔
کیا ہوگا اگر ہم ایک دن مشتری پر گزارتے ہیں جہاں روز ہیروں کی بارش ہوتی ہے وڈیوں دیکھنے کیلئے یہاں کلک کریں👇
https://youtu.be/KPo9ilNGHS4



