*سندھ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں مبینہ مالیاتی گھپلا*
*نوکری چھوڑنے کے باوجود ڈھائی سال سے تنخواہ جاری رہنے کا انکشاف*
*اگست 2026 کی پے سلپ بھی سامنے آگئی، اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ*
کراچی (اسٹاف رپورٹ) معروف جرنلسٹ جاوید صدیقی نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا ھے کہ میرپورخاص میں سابق خاتون پرائمری اسکول ٹیچر کے محکمہ تعلیم سے باقاعدہ ریلیو ہونے کے باوجود مبینہ طور پر سابقہ عہدے کی تنخواہ جاری رہنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ جاوید صدیقی کی رپورٹ کے مطابق کنزہ بختآور نے 2022 میں بطور پرائمری اسکول ٹیچر ملازمت اختیار کی، بعد ازاں محکمہ بلدیات میں ٹاؤن آفیسر گریڈ 16 منتخب ہوئیں۔ محکمہ تعلیم کے متعلقہ افسر نے 14 مئی 2024 کو انہیں باقاعدہ طور پر اسکول ڈیوٹی سے ریلیو کردیا تاہم مبینہ طور پر ریلیو ہونے کے بعد بھی ان کی سابقہ ملازمت کا پے رول/اکاؤنٹ بلاک نہیں کیا گیا اور اگست 2026 کی پے سلپ سامنے آنے سے تنخواہ کے مسلسل اجرا پر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔ یہ معاملہ محکمہ تعلیم، محکمہ خزانہ اور متعلقہ اکاؤنٹس حکام کی نگرانی، پے رول اور مالیاتی نظام میں ممکنہ سنگین غفلت کی نشاندہی کرتا ہے۔ معروف جرنلسٹ جاوید صدیقی نے چیف سیکریٹری سندھ، سیکریٹری فنانس اور سیکریٹری لوکل گورنمنٹ سے کہا ھے کہ فوری طور پر غیر جانب دار، شفاف اور اعلیٰ سطحی انکوائری کرائیں، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور اگر غیر قانونی ادائیگی ثابت ہو تو سرکاری خزانے کو ہونے والے نقصان کی ریکوری یقینی بنائی جائے۔
