BBC Urdu TV

زمین : نظامِ شمسی میں سورج کا تیسرا نزدیک ترین سیارہ

زمین
نظامِ شمسی میں سورج کا تیسرا نزدیک ترین سیارہ

اگر آپ کسی اور صفحہ کی تلاش میں ہیں تو دیکھیں زمین (فرش)


زمین
🜨
"The Blue Marble” photograph of Earth, taken by the Apollo 17 lunar mission. The Arabian peninsula, Africa and Madagascar lie in the upper half of the disc, whereas Antarctica is at the bottom.
1972 میں اپولو 17 قمری مشن کے دوران لی گئی زمین کی بلیو ماربل کی تصویر
محوری خصوصیات
مفروضہ وقت J2000 [n 1] اوج شمسی
152,100,000 کلومیٹر (4.990×1011 فٹ)
(1.01673 AU) [n 2] حضیض شمسی
147,095,000 کلومیٹر (4.82595×1011 فٹ)
(0.9832687 AU) [n 2] Semi-major axis
149,598,023 کلومیٹر (4.90807162×1011 فٹ)
(1.000001018 AU) [1] انحراف
0.0167086[1] گردشی دور
365.256363004 days [2] (1.00001742096 yr)
اوسط گردشی رفتار
29.78 کلو میٹر/سیکنڈ (18.50 میل/سیکنڈ)[3] (107,200 کلومیٹر/گھنٹہ (66,600 میل فی گھنٹہ))
Mean anomaly
358.617°
میلانیت
7.155° to the سورج’s خط استوا;
1.57869°[4] to invariable plane;
0.00005° to J2000 دائرۃ البروج
Longitude_of ascending_node
−11.26064°[3] to J2000 ecliptic
Argument_of perihelion
114.20783°[3] قدرتی سیارچہ
1 قدرتی سٹلائیٹ: چاند
5 quasi-satellites
>1,400 operational مصنوعی سٹلائیٹs[5] >16,000 خلائی ملبہ [n 3] طبیعی خصوصیات
اوسط رداس
6,371.0 کلومیٹر (20,902,200 فٹ)[6] خط استوائی رداس
6,378.1 کلومیٹر (20,926,000 فٹ)[7][8] قطبی رداس
6,356.8 کلومیٹر (20,856,000 فٹ)[9] چپٹا پن
0.0033528[10] 1/298.257222101 ( ETRS89 )
محیط
40,075.017 کلومیٹر (131,479,710 فٹ) (خط استواial) [8] 40,007.86 کلومیٹر (131,259,400 فٹ) (meridional) [11][12] سطحی رقبہ
510,072,000 کلومیٹر2 (5.49037×1015 فٹ مربع)[13][14][n 4] (148,940,000 کلومیٹر2 (1.6032×1015 فٹ مربع) (29.2%) land
361,132,000 کلومیٹر2 (3.88719×1015 فٹ مربع) (70.8%) water)
حجم
1.08321×1012 کلومیٹر3 (2.59876×1011 cu mi)[3] کمیت
5.97237×1024 کلوگرام (1.31668×1025 پاؤنڈ)[15] (3.0×10−6 M⊙)
اوسط کثافت
5.514 گرام/سینٹی میٹر3 (0.1992 lb/cu in)[3] سطحی کششِ ثقل
9.807 m/s2 (32.18 فٹ/سیکنڈ2)[16] (1 g)
Moment of inertia factor
0.3307[17] فراری سمتار
11.186 کلو میٹر/سیکنڈ (6.951 میل/سیکنڈ)[3] فلکی محوری گردش
0.99726968 d[18] (23h 56m 4.100s)
استوائی گردشی_رفتار
1,674.4 کلومیٹر/گھنٹہ (1,040.4 میل فی گھنٹہ)[19] Axial tilt
23.4392811°[2] Albedo
0.367 geometric[3] 0.306 Bond[3] سطحی درجہ حرارت کم اوسط زیادہ
کیلون 184 K[20] 288 K[21] 330 K[22] Celsius −89.2 °C 15 °C 56.7 °C
Fahrenheit −128.5 °F 59 °

فضا
سطحی ہوا کا دباؤ
101.325 kPa (at MSL)
Composition by volume
78.08% نائٹروجن (N2)[3] (dry air)
20.95% آکسیجن (O2)
0.930% argon
0.039% کاربن ڈائی آکسائیڈ[23] ~ 1% آبی بخارات (آب و ہوا-variable)

زمین کا خلائ منظر
زمین نظام شمسی کا وہ واحد سیارہ ہے جہاں پر زندگی موجود ہے۔ پانی زمین کی 3­/­2 سطح کو ڈھکے ہوئے ہے۔ زمین کی بیرونی سطح پہاڑوں، ریت اور مٹی کی بنی ہوئی ہے۔ پہاڑ زمین کی سطح کا توازن برقرار رکھنے کے لیے بہت ضروری ہیں۔ اگر زمین کو خلا سے دیکھا جائے تو ہمیں سفید رنگ کے بڑے بڑے نشان نظر آئیں گے۔ یہ پانی سے بھرے بادل ہیں جو زمین کی فضا میں ہر وقت موجود رہتے ہیں۔ پچھلے چند سالوں سے ان بادلوں کی تعداد میں کمی آئی ہے جس کا اثر زمین کی فضا کو پڑا ہے۔ زمین کا صرف ایک چاند ہے۔ زمین کا شمالی نصف کرہ زیادہ آباد ہے جبکہ جنوبی نصف کرہ میں سمندروں کی تعداد زیادہ اور خشکی کم ہونے کی وجہ سے کم آبادی ہے، اِس کے علاوہ اور کئی وجوہات ہیں (جیسے پچھلے دور میں اُن علاقوں کا کم جاننا وغیرہ)۔ قطب شمالی اور قطب جنوبی پر چھ ماہ کا دن اور چھ ماہ کی رات رہتی ہے۔ عام دن اور رات کا دورانیہ چوبیس گھنٹے کا ہوتا ہے۔

زمین قطبین پر شلجم کی طرح تقریباً چپٹی گول شکل میں ہے۔[25] زمین کے گھومنے سے اس میں مرکز گریز اثرات شامل ہوجاتے ہیں۔ جس کے باعث یہ خط استوا کے قریب تھوڑی ابھری ہوئی ہے اور اس کے قطبین یا پولز قدرے چپٹے ہیں۔ ان مرکز گریز اثرات ہی کی وجہ سے زمین کے اندرونی مرکز سے سطح کا فاصلہ خط استوا کے مقابلے میں قطبین پر 33 فیصد کم ہے۔ یعنی مرکز سے جتنا فاصلہ خط استوا کے مقامات پر زمین کی سطح تک ہے مرکز سے قطبین کی سطح کا فاصلہ اس سے لگ بھگ ایک تہائی کم ہے۔[26]

https://ur.m.wikipedia.org/wiki/%D9%81%D8%A7%D8%A6%D9%84:Globespin.gif

Exit mobile version