راولپنڈی : ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی مسعود اختر کیانی نے سکول کے اندر کھیل کے دوران گرنے سے بچی زخمی ہونے کے مقدمہ میں نامزد کلاس چہارم کی طالبہ کے وکلا کی جانب سے درخواست ضمانت واپس لینے کے بعد درخواست نمٹا دی ہے بچی کے وکلا نے یہ درخواست تھانہ ایئر پورٹ پولیس کی جانب سے داخل کرائی گئی رپورٹ کے بعد واپس لی جس میں پولیس نے اس واقعہ کو ایک اتفاقی حادثہ قرار دیتے ہوئے بچی کو مکمل طور پر بے گناہ قرار دے دیا قبل ازیں عدالت نے بچی کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست منظور کرتے ہوئے ایس ایچ او تھانہ ایئر پورٹ کو ملزمہ کو23مئی تک گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا تھاتھانہ ایئر پورٹ پولیس نے ڈی ایچ اے میں مالی کاکام کرنے والے طارق محمود بٹ سکنہ دھوک چوہدریاں کی مدعیت میں 12فروری 2022کو تعزیرات پاکستان کی دفعات 337-Aاور336کے تحت مقدمہ نمبر 274درج کیا تھا جس میں مدعی کا الزام تھا کہ اس کی10سالہ بیٹی نورالعین اپنا ماڈل سکول یوسف کالونی میں دوسری کلاس کی طالبہ ہے جہان پر کسی نامعلوم بچی نے اسے دھکا دے کر گرایا جس سے اس کا دانت ٹوٹ گیا اور چوٹیں آئیں لیکن سکول کی پرنسپل نے بھی بچی کو فوری طور پر ہسپتال لیجانے کی بجائے اپنے کمرے میں بٹھائے رکھا اور انتہائی تکلیف کے باوجود گھر بھی اطلاع نہ دی بعد ازاں اس مقدمہ میں پولیس نے ڈھوک چوہدریاں ہی کے رہائشی محمد جمشید کی کمسن بیٹی آمنہ جمشید کو نامزد کیا تھا جو اسی سکول میں کلاس چہارم کی طالبہ تھی 17مئی کو عدالت نے طالبہ کی عبوری ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے50ہزار روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم د یاتھا۔
راولپنڈی : ( افتخار خٹک سے رپورٹ)
