راولپنڈی : ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی ملک اعجاز آصف نے تھانہ پیرودہائی کے علاقے میں واقع مدرسے میں 16 سالہ طالبہ سے مبینہ جنسی زیادتی اور تشددکے مقدمہ میں نامزدمرکزی ملزم و مدرسے کے مہتمم مفتی شاہنوازکی جانب سے دائرضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست پر فریقین کونوٹس جاری کرتے ہوئے 5اکتوبر کو ریکارڈ طلب کر لیا ہے عدالت نے آئندہ تاریخ پر ملزم کی پولی گرافک ٹیسٹ کی رپورٹ بھی پیش کرنے کا حکم دیا ہے مفتی شاہنواز نے گزشتہ روز اپنے وکلا طلعت محمود زیدی اورچوہدری محمد شہزاد کے ذریعے ضمانت بعد از گرفتاری کے لئے درخواست عدالت میں دائر کر دی ہے جس میں موقف اختیار کیاگیا ہے کہ درخواست گزار کو بے بنیاد اور جھوٹے مقدمہ میں نامزد کیا گیا ہے حالانکہ درخواست گزار کا ایسے کسی واقعہ سے کوئی تعلق نہ ہے اور مکمل بے گنا ہ ہے درخواست گزار کے خلاف تمام الزامات بے بنیاد اور بدنیتی پر مبنی ہیں یہی وجہ ہے کہ ابھی تک درخواست گزار کے خلاف کوئی ثبوت پیش نہیں کیا جا سکاایف آئی آر میں عائد الزامات اورابتدائی میڈیکل رپورٹس میں واضح تضاد ہے درخواست گزار ایک معزز فیملی سے تعلق رکھتا ہے اور آج تک اس کے خلاف ایسا کوئی الزام نہ ہے اب جبکہ تمام پہلوؤں سے پولیس تحقیقات بھی مکمل ہو چکی ہیں اور درخواست گزار ہر موقع پر پیش ہوتا رہا ہے جبکہ درخواست گزار جیل میں ہے حالانکہ مزید کوئی تفتیش بھی باقی نہ ہے درخواست گزارکو جیل میں رکھنے کا کوئی جواز نہ ہے لہٰذامقدمہ کے فیصلے تک درخواست گزار کو ضمانت پر رہا کیا جائے جمعرات کے روز درخواست ضمانت کی سماعت کے موقع پر متاثرہ لڑکی والدہ بھی عدالت میں موجود تھی یاد رہے کہ تھانہ پیرودھائی پولیس نے متاثرہ طالبہ مسکان کی والدہ روبینہ گل کی مدعیت میں 17 اگست کوتعزیرات پاکستان کی دفعات 376اور511کے تحت مقدمہ نمبر879درج کیا تھا۔
راولپنڈی : (افتخار خٹک سے رپورٹ)
