گجرات سے ایس ایچ او تھانہ صدر سرائے عالمگیراور ایس ایچ او سٹی سرائے عالمگیر کے ظلم کا ستایا ہوا
راجڑبجلی گھر کے رہائشی ذیشان خالدنے دادرسی کے لئے آئی جی پنجاب آفس میں ان کے خلاف انکوائری کے لئے تحریری درخواست دے دی مگر تحریری درخواست کو پندرہ روز گزرنے کے بعد بھی پیٹی بھائیوں کے خلاف دی جانے والی درخواست کسی قابل آفیسرکے پاس انکوائری کے لئے مارک نہ ہو سکی۔ذیشان خالد مایوس ہو کر میڈیا آفس پہنچ گیا ۔تفصیلات کے مطابق سرائے عالمگیر کے رہائشی ذیشان خالد نے میڈیا آفس میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ایس ایچ او تھانہ صدر لیاقت حسین گجراور ایس ایچ او سٹی صغیر احمد بھدر نے ذاتی عناد اور پیسے کی لالچ میں ہمارے خاندان پر جھوٹے اور بے بنیاد مقدمات کی بھر مار کر دی اور ہمارے خلاف دوماہ میں مختلف دفعات کے تحت 23 مقدمات درج کر دیئے جو کہ بالکل من گھڑت اور جھوٹ پر مبنی ہیں بعض مقدمات میں پولیس نے اسلحہ بھی اپنی جانب سے ڈال دیا ہوا ہے ۔ذیشان خالد نے کہا کہ صغیر احمد بھدر کے خلاف انکوائری میں یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ یہ منشیات فروشوں،قبضہ مافیا اور کریمنل گینگ کا سرغنہ ہے اور بھاری رقوم کے حوض جھوٹے مقدمات درج کرنے کا ماسٹر مائینڈ ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس سے قبل میں نے ڈی پی او گجرات اور آر پی او گجرانوالہ کو بھی درخواستیں دیں مگراپنے ماتحتوں کی غلطیوں پر پردہ ڈال رہے ہیں اور ہمیں انصاف نہ مل سکا ۔ذیشان خالد نے کہا کہ ہم آئی جی پنجاب سے اپیل کرتے ہیں ہماری جانب سے کھلا چیلنج ہے کہ اوپن انکوائری کروائی جائے اور اگر ہم مقدمات کو جھوٹا ثابت نہ کر سکے تو ہمارے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے اور اگر ہم جھوٹے مقدمات میں بے گناہ ثابت ہوئے تو دونوں ایس ایچ اوز اور عملے کو نوکری سے فارغ کرکے ان کے خلاف قانوی کارروائی عمل میں لائی جائے۔انہوں نے کہا کہ انکوائری ایڈیشنل آئی جی لاہور سے کروائی جائے جہاں ان کی سفارش نہ چل سکے ۔
روپوٹ : چوہدری عادل پرویز گخرات
