BBC Urdu TV

خیبر پختونخوا جامعات کو برطرفی ایکٹ سے مستثنیٰ نہ کرنے کا فیصلہ۔

خیبر پختونخوا جامعات کو برطرفی ایکٹ سے مستثنیٰ نہ کرنے کا فیصلہ۔

اساتذہ و ملازمین میں شدید تشویش بیرسٹر گوہر اور صوبائی وزیر ہائیر ایجوکیشن خیبرپختونخواہ سے فوری ایکشن کی اپیل۔

پشاور (نمائندہ خصوصی) گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق خیبر پختونخوا کی جامعات اور ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی سفارشات کہ جامعات کو سروس سے برطرفی ایکٹ سے استثنیٰ دیا جائے، بدقسمتی سے وزیر قانون و اعلیٰ تعلیم نے مسترد کر دیں۔ اس فیصلے سے جامعات کے اساتذہ و ملازمین میں شدید تشویش اور بے چینی پائی جاتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس سلسلے میں جلد ایک باضابطہ مراسلہ جاری ہونے والا ہے۔واضح رہے کہ جامعات میں بھرتیاں سال 2021 اور 2022 کے اشتہارات پر ضرورت کے بُنیاد پر اور قانونی طریقے سے، باقاعدہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے جاری کردہ این او سی کی بنیاد پر عمل میں لائی گئی تھیں۔ماہرین و ذمہ دارانِ تعلیم کے مطابق یہ امر نہایت افسوسناک ہے کیونکہ جامعات میں ہونے والی تقرریاں شفاف اور میرٹ پر مبنی مقابلے کے عمل کے تحت کی گئی ہیں، جو باقاعدہ منظور شدہ بجٹ اور تخلیق شدہ آسامیوں پر عمل میں لائی گئیں۔ مزید یہ کہ تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے اور الیکشن کمیشن آف پاکستان سے این او سی بھی حاصل کیا گیا۔انہوں نے سوال اٹھایا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی روزانہ اپنی پریس کانفرنسوں میں انسانی حقوق کی پامالی اور ناانصافی پر بات کرتے ہیں لیکن اب اس غیر قانونی اور غیر آئینی اقدام پر خاموش کیوں ہیں جو سینکڑوں یونیورسٹی ملازمین کے مستقبل کو داؤ پر لگا رہا ہے۔ماہرین تعلیم نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس ناجائز اور غیر منصفانہ عمل کو نہ روکا گیا تو جامعات کے تسلسل، لازمی تعلیمی و انتظامی خدمات اور مستقبل کے منصوبہ جات میں سنگین رکاوٹیں پیدا ہوں گی۔ مزید برآں، اگر ایسا غیر قانونی اور غیر منصفانہ اقدام ہوا تو یہ تمام معاملات عدالتوں میں جائیں گے اور یہ مظلوم ملازمین پھر عدالتوں سے انصاف مانگیں گے، جو کہ تحریک انصاف کے نام نہاد انصاف کے دعووں کے برعکس ہوگا۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ ان ملازمین کی بھرتی کا عمل کم از کم ایک سال کے طویل طریقہ کار کے بعد مکمل ہوتا ہے۔ لہٰذا، بیرسٹر گوہر چیئرمین پی ٹی آئی سے پرزور اپیل کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر اس معاملے کا نوٹس لیں اور صوبائی حکومت و وزیر قانون کو واضح ہدایات جاری کریں تاکہ اس عمل کو روکا جا سکے اور تمام ملازمین کو انصاف فراہم کرتے ہوئے ان کے روزگار اور رزقِ حلال کو محفوظ بنایا جا سکے۔

Exit mobile version