حیدرِ کرار سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ — شجاعت، وفاداری اور اطاعت رسول ﷺ کا تابندہ مینار
(حصہ اول)
تحریر:
سعد محمد مدنی
فاضل مدینہ یونیورسٹی مدینہ منورہ
تاریخِ اسلام میں چند شخصیات ایسی ہیں جن کے نام کے ساتھ وفاداری، شجاعت، علم، تقویٰ اور اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا تصور خود بخود ذہن میں ابھر آتا ہے۔ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ انہی عظیم المرتبت شخصیات میں سے ہیں۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی، داماد، اہلِ بیت کے ممتاز فرد، سابقینِ اولین میں شامل، عشرۂ مبشرہ کے رکن اور چوتھے خلیفۂ راشد ہیں۔ اہلِ سنت والجماعت کا متفقہ عقیدہ ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے محبت ایمان کا تقاضا اور ان کے مقام و مرتبہ کا اعتراف دین کا حصہ ہے۔
قرآنِ مجید نے اگرچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا نام لے کر تذکرہ نہیں کیا، لیکن ان جیسے سابقینِ اولین کی عظمت کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“اور جو لوگ (ایمان میں) سبقت لے جانے والے ہیں، وہی سبقت لے جانے والے ہیں، یہی لوگ اللہ کے مقرب بندے ہیں۔”
(سورۃ الواقعہ: ۱۰-۱۱)
اسی طرح فرمایا:
“اور مہاجرین و انصار میں سے جو سب سے پہلے ایمان لائے اور جن لوگوں نے اخلاص کے ساتھ ان کی پیروی کی، اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے، اور اس نے ان کے لیے ایسے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے، یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔”
(سورۃ التوبہ: ۱۰۰)
سیدنا علی رضی اللہ عنہ انہی خوش نصیب ہستیوں میں شامل تھے جنہوں نے کم عمری ہی میں دعوتِ اسلام قبول کی اور پوری زندگی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت، حفاظت اور اطاعت میں گزار دی۔
ہجرتِ مدینہ کا واقعہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بے مثال وفاداری کا ایسا باب ہے جس کی مثال تاریخِ انسانی میں کم ہی ملتی ہے۔ جب کفارِ مکہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کا فیصلہ کیا اور آپ کے گھر کا محاصرہ کر لیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اپنے بستر پر سونے کا حکم دیا۔ یہ ایسا لمحہ تھا جس میں ہر لمحہ موت سامنے کھڑی تھی، لیکن علی رضی اللہ عنہ نے حکمِ رسول کو اپنی جان پر مقدم رکھا۔ اسی موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک اور عظیم ذمہ داری بھی سونپی کہ اہلِ مکہ کی وہ تمام امانتیں، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس محفوظ تھیں، ان کے مالکان تک واپس پہنچا دیں، پھر مدینہ ہجرت کریں۔ یہ اعتماد اس حقیقت کا روشن ثبوت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی امانت، دیانت اور وفاداری پر مکمل اعتماد رکھتے تھے۔ (دیکھیے: سیرۃ ابن ہشام، ٢/١٢٦-١٢٨)
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی زندگی کا ایک اور روشن باب سیدہ فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا سے نکاح ہے۔ دنیاوی مال و دولت نہ ہونے کے باوجود جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کی خواہش ظاہر کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی زرہ کو مہر قرار دیا۔ یوں اسلام نے یہ عملی درس دیا کہ خوش حال ازدواجی زندگی کی بنیاد مال نہیں بلکہ ایمان، کردار اور تقویٰ ہے۔ (سنن النسائی، کتاب النکاح؛ مسند احمد)
لیکن اگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شجاعت کا کوئی ایک ایسا منظر منتخب کرنا ہو جسے قیامت تک یاد رکھا جائے تو وہ یقیناً غزوۂ خیبر کا میدان ہے۔ ایسے نازک موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسا تاریخی اعلان فرمایا جس نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے مقام کو ہمیشہ کے لیے روشن کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“کل میں یہ جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جس کے ہاتھ پر اللہ فتح عطا فرمائے گا۔ وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے، اور اللہ اور اس کا رسول بھی اس سے محبت کرتے ہیں۔”
(صحیح بخاری: ٣٧٠١، ٤٢١٠؛ صحیح مسلم: ٢٤٠٦)
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم بیان کرتے ہیں کہ اس رات ہر شخص یہی آرزو کرتا رہا کہ شاید یہ سعادت اسے حاصل ہو، لیکن صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“علی کہاں ہیں؟”
عرض کیا گیا کہ ان کی آنکھوں میں تکلیف ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلوایا، اپنی مبارک تھوک ان کی آنکھوں پر لگائی، اللہ تعالیٰ نے فوراً شفا عطا فرمائی، پھر اسلامی لشکر کا علم ان کے سپرد کر دیا۔ اسی دن اللہ تعالیٰ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں خیبر کو فتح فرما دیا۔ (صحیح بخاری: ٤٢١٠، صحیح مسلم: ٢٤٠٦)
یہ صرف جنگی مہارت کا اعتراف نہیں تھا، بلکہ اس سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ گواہی کہ “وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتے ہیں اور اللہ اور اس کا رسول بھی ان سے محبت کرتے ہیں”، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ایسی فضیلت ہے جو صحیح ترین احادیث میں محفوظ ہے اور جس پر ہر مسلمان کا ایمان ہے۔
اسلام نے بہادری کو صرف تلوار چلانے کا نام نہیں دیا، بلکہ وفاداری، اطاعت، امانت اور اخلاص کو بھی شجاعت کا حصہ قرار دیا ہے، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شخصیت ان تمام اوصاف کا حسین امتزاج تھی۔ ان کی زندگی کا ہر باب اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں صرف میدانِ جنگ کا شیر ہی نہیں، بلکہ کردار، وفاداری اور تقویٰ کا بھی روشن نمونہ بنایا۔
(جاری ہے…)
