حضرت مولانا الحاج ڈاکٹر مقبول الرحمن قادریؒ ایک عہد کی علمی، دینی اور روحانی یادگار
تحریر: عبدالرحمن قادری
زندگی میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی موجودگی معاشرے کے لیے باعثِ افتخار، جن کی گفتگو علم و حکمت کا سرمایہ اور جن کا کردار محبت، خلوص اور انسان دوستی کی روشن مثال ہوتا ہے۔ ایسی شخصیات جب اس دنیا سے رخصت ہوتی ہیں تو صرف ایک گھر کا چراغ نہیں بجھتا، بلکہ ایک پورا عہد اپنی یادوں، روایات اور اقدار کے ساتھ لوگوں کے دلوں میں اتر جاتا ہے۔ جہلم کی ممتاز علمی، دینی، روحانی و سماجی شخصیت، گولڈ میڈلسٹ حضرت مولانا الحاج ڈاکٹر مقبول الرحمن قادری رحمۃ اللہ علیہ کا وصال بھی ایک ایسا ہی سانحہ ہے جس نے اہلِ جہلم اور دینی و سماجی حلقوں کو سوگوار کر دیا۔
حضرت مولانا الحاج ڈاکٹر مقبول الرحمن قادریؒ محض ایک نام نہیں، بلکہ علم و دین سے وابستگی، اعلیٰ اخلاق، شرافت، خلوص اور خدمتِ خلق کی ایک ایسی روایت کا نام تھے جس کی خوشبو مدتوں محسوس کی جاتی رہے گی۔ آپ کی شخصیت میں دینی اقدار کی پاسداری، روحانی وابستگی اور معاشرتی روابط کا حسین امتزاج دکھائی دیتا تھا۔ آپ کا طرزِ زندگی اس حقیقت کی عکاسی کرتا تھا کہ انسان کی اصل عظمت اس کے عہدے، شہرت یا ظاہری مقام میں نہیں، بلکہ اس کے کردار، اخلاق اور دوسروں کے لیے دل میں موجود خلوص میں پوشیدہ ہوتی ہے۔
علم و دین سے وابستگی، کردار کی پہچان
معاشرے میں بہت سے لوگ اپنے نام اور منصب کے باعث پہچانے جاتے ہیں، لیکن کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جنہیں ان کے کردار اور حسنِ اخلاق کی وجہ سے یاد رکھا جاتا ہے۔ حضرت مولانا الحاج ڈاکٹر مقبول الرحمن قادریؒ کا شمار بھی ایسی ہی شخصیات میں ہوتا تھا۔ آپ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ محبت، احترام اور خندہ پیشانی سے پیش آتے تھے۔ یہی وصف کسی انسان کو عوام کے دلوں میں جگہ عطا کرتا ہے اور یہی وہ سرمایہ ہے جو دنیا سے رخصتی کے بعد بھی باقی رہتا ہے۔
آپ کی وفات سے جہلم کی علمی، دینی اور سماجی فضا میں ایک خلا پیدا ہوا ہے۔ ایسے خلا محض الفاظ سے پُر نہیں کیے جا سکتے، کیونکہ ان کے پیچھے برسوں کی وابستگیاں، تعلقات، دعائیں اور لوگوں کے دلوں میں قائم محبت موجود ہوتی ہے۔
آستانۂ قادریہ چھوہر شریف سے روحانی نسبت
مرحوم کی زندگی کا ایک قابلِ ذکر پہلو آستانۂ مقدسہ قادریہ چھوہر شریف، ہری پور ہزارہ سے ان کی گہری روحانی وابستگی تھی۔ آپ تاجدارِ چھوہر شریف حضرت خواجہ عبدالرحمن چھوہروی رحمۃ اللہ علیہ اور ان کی اولادِ امجاد سے خصوصی عقیدت رکھتے تھے۔
یہ روحانی تعلق محض ایک رسمی نسبت تک محدود نہیں تھا، بلکہ آپ کی دینی زندگی اور روحانی معمولات کا اہم حصہ تھا۔ حضرت خواجہ عبدالرحمن چھوہروی رحمۃ اللہ علیہ کی تصنیفِ مبارک، تیس پاروں پر مشتمل مجموعۂ پاک صلوات الرسول ﷺ کے ساتھ آپ کی وابستگی بھی اسی عقیدت کا نمایاں اظہار تھی۔ اس مبارک مجموعے سے تادمِ آخر تعلق برقرار رکھنا آپ کی روحانی دلچسپی اور محبتِ رسول ﷺ سے وابستگی کی عکاسی کرتا ہے۔
روحانی نسبتیں انسان کو اپنے اسلاف کی تعلیمات، اخلاقی اقدار اور دینی روایات سے جوڑے رکھتی ہیں۔ یہی نسبتیں نسل در نسل منتقل ہو کر خاندانوں اور معاشروں کے لیے ایک قابلِ قدر سرمایہ بن جاتی ہیں۔ حضرت مولانا مقبول الرحمن قادریؒ کی یہ وابستگی ان کے اہلِ خانہ، متعلقین اور عقیدت مندوں کے لیے ایک یادگار حیثیت رکھتی ہے۔
ایک خاندان کا بزرگ، ایک معاشرے کا سرمایہ
مرحوم مولانا حافظ حنیف الرحمن، ڈینٹل ٹیکنیشن ڈاکٹر عزیز الرحمن، مولانا مطلوب الرحمن، ڈاکٹر عتیق الرحمن اور ڈاکٹر توفیق الرحمن کے والدِ محترم تھے، جبکہ جہلم کی معروف مذہبی شخصیت علامہ صاحبزادہ ابوبکر سلطانی کے نانا جان تھے۔
کسی خاندان میں بزرگ کی حیثیت محض رشتے کی بنیاد پر نہیں ہوتی، بلکہ وہ خاندان کی تاریخ، روایات، تجربات اور دعاؤں کا مرکز ہوتا ہے۔ بزرگوں کی موجودگی اہلِ خانہ کے لیے حوصلہ، رہنمائی اور تحفظ کا احساس پیدا کرتی ہے۔ ان کی جدائی ایک ایسا دکھ ہے جسے وقت کسی حد تک کم تو کر سکتا ہے، لیکن ان کی یادوں اور محبتوں کو مٹا نہیں سکتا۔
حضرت مولانا مقبول الرحمن قادریؒ کی نمازِ جنازہ، فاتحہ خوانی اور قل شریف کی تقریبات میں علمائے کرام، مشائخ عظام، ڈاکٹرز، افسران، وکلاء، سیاسی و سماجی شخصیات اور عوام الناس کی بڑی تعداد میں شرکت اس بات کی علامت تھی کہ مرحوم نے اپنے حسنِ سلوک اور خلوص کے ذریعے مختلف طبقات میں عزت و احترام حاصل کیا تھا۔ ایم این اے جہلم چوہدری فرخ الطاف، چوہدری عمار فرخ اور چوہدری حمزہ سعید سمیت معزز شخصیات کی شرکت بھی اس موقع کی اہمیت کو نمایاں کرتی ہے۔
اصل میراث نیک نامی ہے
دنیا کی زندگی عارضی ہے۔ انسان اپنے ساتھ نہ مال و دولت لے کر جاتا ہے اور نہ ہی دنیاوی مرتبہ، لیکن اس کے اعمال، اخلاق، نیک نامی اور لوگوں کے دلوں میں بسنے والی محبت اس کی یاد کو زندہ رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کسی شخصیت کی زندگی کا جائزہ لیتے ہوئے اس کے پیچھے رہ جانے والے اثرات کو بھی دیکھا جاتا ہے۔
حضرت مولانا الحاج ڈاکٹر مقبول الرحمن قادری رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی اور ان کی روحانی وابستگی ہمیں اس جانب متوجہ کرتی ہے کہ دینی اقدار، محبتِ رسول ﷺ، احترامِ انسانیت اور خدمتِ خلق کو زندگی کا حصہ بنانا ہی حقیقی کامیابی ہے۔ معاشرے کو آج بھی ایسی شخصیات کی ضرورت ہے جو اختلافات کے باوجود احترام، تعلقات میں خلوص اور زندگی کے ہر شعبے میں اخلاقی اصولوں کو مقدم رکھیں۔
مرحوم کی جدائی یقیناً اہلِ خانہ، عزیز و اقارب اور عقیدت مندوں کے لیے ایک بڑا صدمہ ہے، تاہم ان کی اچھی یادیں، دینی وابستگی اور لوگوں کے ساتھ محبت پر مبنی تعلقات ان کی زندگی کی یادگار کے طور پر باقی رہیں گے۔
اللہ تعالیٰ حضرت مولانا الحاج ڈاکٹر مقبول الرحمن قادری رحمۃ اللہ علیہ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی نیکیوں اور دینی و سماجی خدمات کو قبول فرمائے، ان کی قبر کو نور سے منور فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ تمام پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔
بعض لوگ دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں، مگر ان کا کردار، ان کی محبت اور ان کی نیک نامی لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔
