BBC Urdu TV

جہلم پریس کلب کے سینئر صحافیوں نے گزشتہ روز ایک میٹنگ کا انعقاد کیا

جہلم پریس کلب کے سینئر صحافیوں نے گزشتہ روز ایک میٹنگ کا انعقاد کیا

جس میں جہلم پریس کلب کی طرف سے ہونے والی زیادتیوں پر اور نئے ورکنگ صحافیوں کو ووٹ کے حق کے لیے بات چیت نی کی گئی تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز جہلم پریس کلب کے سئنیر صحافیوں نے ایک میٹنگ کا انعقاد کیا گیا جس میں نئے آنے والے ورکنگ صحافیوں کو ووٹ کا حق نہ دینے کے بارے میں بات چیت کی گئی میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا کہ جن ورکنگ صحافیوں کو ایک سال ہوچکا ہے ان کو جہلم پریس کلب کے آئین کے مطابق ممبر بنایا جائے گا جبکہ تین سال یا اس سے زیادہ کا وقت ہونے پر ان صحافیوں کو ووٹ کا حق دیا جائے گا میٹنگ میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ اب کسی کا دباؤ برداشت نہیں کیا جائے گا صحافی کو اس کا حق ملے گا اور ہم اس کے حق کے لیے تمام آپشن بھی استعمال کریں گے جو کہ آئین میں لکھا ہوا ہے میٹنگ میں 2023 کی الیکشن سے پہلے نئے صحافیوں کی پریس کلب میں ممبر شپ اور ان کے ووٹ کے اندراج کے حوالے سے متفقہ طور پر مشاورت مکمل کی گئی

جہلم پریس کلب کے صدر اور جنرل سیکرٹری کے بار بار وعدے کرنے کے باوجود کئی صحافی ابھی تک ممبر بننے اور ووٹ سے محروم ہیں اب پریس کلب کی طرف سے کوئی بھی زیادتی براداشت نہیں کی جائے گی کیونکہ جہلم پریس کلب کی طرف سے ووٹ اور ممبر بنانے والی 5 رکنی کمیٹی نے بھی ہاتھ کھڑے کر دییے تھے اور چھ ماہ میں وہ ایک اجلاس بھی نہ بلا سکی تھی جس کی وجہ سے نئے صحافیوں کے تحفظات بڑھ گئے میٹنگ میں بڑی تعداد میں صحافی برادری نے شرکت سوہاوہ اور دینہ کے صحافیوں نے بھی خصوصی طور پر اس اجلاس میں شرکت کی اجلاس میں راجہ جہانزیب ترک،راجہ فیصل کیانی،احسن وحید،مہر محمد آصف، جرار حسین میر، ندیم ساجد مغل، مصطفیٰ بٹ، اشرف جنجوعہ، مشرف سلیم، محمد رضوان ، بلال رضا، مرزا فراز بیگ شیخ زلفی ، ڈاکٹر اعجاز اعوان ، سید ذوالقرنین شاہ. عبدالرحمن قادری ،سجاد بیگ ثاقب کشمیری، انیس الرحمن بٹ ،عبدالمنان کھوکھر، سرور حسین بٹ فتح خان چوہدری قاسم سجاد راجہ عبدالوحید اور نعیم احمد بھٹی نے شرکت کی۔

Exit mobile version