جہلم (ملک وسیم اختر)جہلم ضلع بھر میں نقشوں کی منظوری کے بغیر کمرشل اور رہائشی عمارتوں کی تعمیر آئے روز ہونے والے انکشافات کے باوجود بلڈنگز تعمیر کرنے والے افراد اور رشوت لیکر انہیں سرکاری ریکارڈ میں ردو بدل کے تحت فائدہ پہنچانے والے متعلقہ محکموں کے سرکاری افسران و ملازمین کے خلاف موثر کاروائیاں نہ ہونے کے باعث غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ بدستور جاری جس سے حکومت پنجاب کو واجبات کی وصولی میں ماہانہ لاکھوں کروڑوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے جبکہ ملی بھگت کرنے والے کرپٹ افسران و ملازمین لاکھوں روپے کی دہہایاں لگا رہے ہیں ضلع بھرکے شہریوں کے مطابق بلڈنگز انسپکٹر سمیت محکمہ مال و ڈپٹی کمشنر آفس کی مختلف برانچز کے بعض رشوت خور افسران و ملازمین کے اثاثے چند سالوں میں غیر معمولی طور پر بڑھے ہیں اور جو ملازمین کچھ عرصہ قبل تک موٹر سائیکل خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے آج انکی اولادیں مہنگی گاڑیوں پر گھوم رہی ہیں محلات نما مکانات میں یہ رہائش پذیر ہیں جبکہ انکی تنخواہ ماہانہ اخراجات کے مقابلے میں اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف ہے یہ افسران و ملازمین رشوت ستانی کے ذریعے عیش پرستانہ زندگیاں بسرکر رہے ہیں جن کے خلاف عوامی شکایات کے باوجود موثرکا روائیاں نہیں کی جارہی، غیر قانونی تعمیرات کے باعث میونسپل کمیٹی ضلع کونسل کی بلڈنگ برانچز کے بعض افسر اور اہلکاروں نے جتنا مال سمیٹا ہے اسکی مثال ملنا مشکل ہے مگر ان کےاثاثوں کی جانچ پڑتال نہیں کی جارہی حالانکہ ان کی رشوت ستانی کے باعث دونوں بلدیاتی ادارے میونسپل کمیٹی اور ضلع کونسل کنگال ہو چکے ہیں اور بجلی کے ماہانہ بلز سمیت ملازمین کی تنخواہوں و پینشنرز کےواجبات کی ادائیگی میں بھی شدید مشکلات کا شکار ہیں شہر سے ملحقہ مضافاتی علاقوں میں متعدد کمرشل عمارتیں اور،بڑی بڑی کوٹھیوں کی تعمیر میں میونسپل کمیٹی وضلع کونسل کو نقشہ اور کنورژن فیسیں ادا نہ کی گئی جس سے پچھلے چند ماہ میں ہونے والے نقصان کا اندازہ لاکھوں کروڑو۔ روپے لگایاگیا ہے جبکہ میونسپل کمیٹی ماہانہ تنخواہیں اور پینشن ادا کرنے میں مشکلات کا شکار ہے بیوہ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشنزز کی رقوم بھی شامل ہیں اور میونسپل کمیٹی کے عملہ صفائی کو بھی تنخواہوں کی ادائیگی میں اکثر تاخیر برتی جاتی ہے غیر قانونی طور پر بڑے بڑے پلازوں اور کوٹھیوں کی تعمیر کے بارے میں مختلف رپورٹس سامنے آنے کےبا وجود متعلقہ اعلیٰ حکام موثر اقدامات اٹھانے کو تیار نہیں جس سے کرپٹ افسران و ملازمین کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے دو سال قبل سابق ایڈ منسٹریٹر ایم سی کی طرف سےہدایت جاری کی گئی تھی کہ کوائف کی تکمیل اور سرکاری واجبات کی ادائیگی کے بغیر تعمیر ہونے والی تمام عمارتوں کے مالکان کے خلاف پنجاب لوکل گورنمنٹ آرڈی ننس2022 ء کی دفعہ 172 کے تحت مقدمات درج کیئےجائیں جس میں 3 سال قید با ایک لاکھ روپے جرمانہ یادونوں سزائیں ہو سکتی ہیں اور ملزمان سے تمام فیسیں بھی وصول کی جائیں جس کے بعد کسی بھی شخص کے خلاف نہ توکوئی مقدمہ درج ہوا اور نہ غیر قانونی تعمیرات روکی جاسکیں اس اعلان کےبعد سے کرپٹ افسران و ملازمین بدستور اپنی جیبیں بھرنے میں مصروف عمل ہیں اور شہر سمیت ضلع بھرمیں غیر قانونی تعمیرات کی بھر مار ہو چکی ہے، شہریوں نے وزیر اعلی پنجاب محترمہ مریم نواز شریف چیف سیکرٹری پنجاب صوبائی وزیر بلدیات سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیاھے
جہلم (ملک وسیم اختر)جہلم ضلع بھر میں نقشوں کی منظوری کے بغیر کمرشل اور رہائشی عمارتوں
