*جمہوریت یا نظام کی تبدیلی؟*
*جرنلسٹ جاوید صدیقی نے مقتدران و سیاستدانوں کے سامنے اہم سوالات رکھ دیے*
کراچی کے معروف جرنلسٹ و کالمکار جاوید صدیقی نے پاکستان میں رائج سیاسی و حکومتی نظام، عوامی حقوق، عدل و انصاف اور طرزِ حکمرانی کے حوالے سے مقتدر حلقوں، سیاستدانوں اور قومی رہنماؤں کے سامنے متعدد بنیادی سوالات رکھ دیے ہیں۔جاوید صدیقی کا بنیادی سوال ہے کہ پاکستان میں تمام شہریوں اور قوموں کے لیے مساوی حقوق، عدل و انصاف، امن، تحفظ اور خوشحالی یقینی بنانے کے لیے کون سا نظام زیادہ مؤثر ثابت ہوسکتا ہے؟ کیا ملک میں جمہوری نظام جاری رہنا چاہیے، یا صدارتی، خلافتی، شرعی، بادشاہی، مملوکیتی یا کوئی اور نظام اختیار کیا جانا چاہیے؟ان کا کہنا ہے کہ قیامِ پاکستان کے بعد مختلف ادوار میں جمہوری اور فوجی طرزِ حکومت ملک کے سیاسی منظرنامے پر غالب رہے، تاہم عوامی سطح پر آج بھی بنیادی حقوق، معاشی آسودگی، روزگار، انصاف اور تحفظ سے متعلق سنگین سوالات موجود ہیں۔ ان کے مطابق مہنگائی، بے روزگاری، ٹیکسوں کا بڑھتا بوجھ اور معاشی مشکلات نے عام شہری کی زندگی کو دشوار بنا دیا ہے، جبکہ جرائم، چوری، ڈکیتی، قتل و غارت، کرپشن، اقربا پروری، بدعنوانی، لاقانونیت اور حق تلفی جیسے مسائل بھی معاشرے کے لیے بڑے چیلنج بن چکے ہیں۔ جاوید صدیقی کے مطابق ملک کے سنجیدہ، تعلیم یافتہ، مدبر، محققین، دانشوروں اور باشعور شہریوں کو اس امر پر غور کرنا ہوگا کہ قومی اتحاد، مساوی شہری حقوق اور اجتماعی ترقی کے لیے موجودہ نظام میں کیا اصلاحات ناگزیر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عوام کو محض سیاسی وعدوں، دعوؤں اور مستقبل کے خوابوں تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں باعزت، خودمختار اور بااختیار شہری بنانا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہونی چاہیے۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا پاکستان چند خاندانوں، اشرافیہ یا مخصوص مراعات یافتہ طبقات کے لیے قائم کیا گیا تھا؟ کیا عام پاکستانی نسل در نسل معاشی، سیاسی اور سماجی مشکلات کا شکار رہنے پر مجبور رہے گا؟ ان کے بقول عوام کو ریاستی نظام میں محض ووٹر یا امدادی پروگراموں کے مستحقین کے طور پر نہیں بلکہ باوقار شہری کی حیثیت سے دیکھا جانا چاہیے۔ جاوید صدیقی کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ جمہوری نظام ہی عوام کے لیے بہترین نظام ہے تو حکمرانوں، سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کو ٹھوس دلائل کے ساتھ عوام کے سامنے اس کی افادیت واضح کرنی چاہیے اور یہ بھی بتانا چاہیے کہ موجودہ نظام میں بنیادی حقوق، انصاف، شفاف حکمرانی، روزگار، امن اور معاشی استحکام کیوں اور کیسے یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر موجودہ نظام میں بنیادی اصلاحات یا تبدیلی ناگزیر سمجھی جاتی ہے تو اس مقصد کے لیے آئین، قانون، عوامی رائے، قومی مفاد اور جمہوری اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے ایک سنجیدہ، مثبت اور مؤثر قومی مکالمہ شروع کیا جانا چاہیے۔جاوید صدیقی نے زور دیا کہ نظامِ حکومت کے بارے میں فیصلہ جذبات، تعصب یا کسی ایک طبقے کے مفاد کے بجائے آئین، قانون، عوامی فلاح، مساوی حقوق، عدل و انصاف اور پاکستان کے مستقبل کو سامنے رکھ کر ہونا چاہیے۔ ان کے بقول اصل سوال صرف یہ نہیں کہ کون سا نظام نافذ ہو، بلکہ یہ بھی ہے کہ ایسا کون سا نظام ہو جو ریاستی اداروں کو مضبوط، عوام کو بااختیار، قانون کو بالادست اور ہر شہری کو عزت و تحفظ فراہم کرسکے۔ انہوں نے مقتدران، سیاستدانوں، دانشوروں، مذہبی و سیاسی رہنماؤں اور سول سوسائٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ ان سوالات پر سنجیدہ قومی مکالمہ کریں اور عوام کو واضح، مدلل اور قابلِ عمل جواب دیں۔
