BBC Urdu TV

جامعہ کراچی کی ڈائمنڈ جوبلی تقریبات کے سلسلے اور یومِ دفاع کی مناسبت سے تقریب کا انعقاد

*جامعہ کراچی کی ڈائمنڈ جوبلی تقریبات کے سلسلے اور یومِ دفاع کی مناسبت سے تقریب کا انعقاد*

*قومی اتحاد دفاعی قوت میں اضافہ کرتا ہے، بریگیڈیئر (ر) حارث نواز*

*کسی بھی ملک کی دفاعی قوت صرف مسلح افواج تک محدود نہیں ہوتی بلکہ عوام کا اپنی افواج کے ساتھ متحد اور پُرعزم ہونا بھی قومی طاقت کا اہم ذریعہ ہے۔ ڈاکٹر محمد طفیل*

کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) بریگیڈیئر (ر) حارث نواز نے کہا ہے کہ قومی اتحاد، باہمی اعتماد اور عوام و افواج کے درمیان یکجہتی ملک کی دفاعی قوت کو کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔ پاکستانی افواج ملک کے دفاع میں کبھی تنہا نہیں ہوتیں بلکہ پوری قوم ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہوتی ہے اور یہی قومی یکجہتی حقیقی طور پر دفاعی طاقت میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز آفس آف دی ڈین فیکلٹی آف آرٹس اینڈ سوشل سائنسز، جامعہ کراچی کے زیر اہتمام جامعہ کراچی کی ڈائمنڈ جوبلی تقریبات کے سلسلے اور یومِ دفاع کی مناسبت سےچائنیز ٹیچرز میموریل آڈیٹوریم جامعہ کراچی میں منعقدہ پروگرام ’’یومِ دفاع: ہماری سیکیورٹی فورسز کی لازوال قربانیوں کو خراجِ عقیدت‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ بریگیڈیئر (ر) حارث نواز نے کہا کہ جنگ کے دوران عوام کو دشمن کی سرگرمیوں اور زمینی حقائق سے باخبر رکھنا انتہائی ضروری ہے، کیونکہ دشمن ذرائع ابلاغ کے ذریعے مخصوص بیانیہ تشکیل دے کر قوم میں اختلافات اور تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ایسے حالات میں درست معلومات کی فراہمی اور مؤثر قومی بیانیے کی تشکیل ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی ذرائع ابلاغ کے ذریعے مسلسل ایک مخصوص بیانیہ پیش کیا جا رہا تھا، جس کا مقصد پاکستان اور اس کے عوام کے درمیان خلیج پیدا کرنا اور مختلف طبقات کے مابین اختلافات کو ہوا دینا تھا۔ انہوں نے زور دیا کہ دشمن کی جانب سے پیدا کی جانے والی کسی بھی تقسیم یا فاصلے کو قبول نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ ملک کی سلامتی اور دفاع کے لیے قوم کا متحد رہنا بنیادی ضرورت ہے۔حارث نواز نے سائبر جنگ کے حوالے سے پاکستانی دفاعی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ نیشنل ڈیفنس فورس نے سائبر وار فیئر کے میدان میں بھی مؤثر کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جس کے نتیجے میں بھارتی فوجی نظام اور دفاعی صلاحیتوں کو نمایاں نقصان پہنچا۔ اس موقع پر جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد طفیل نے کہا کہ بری، بحری اور فضائی افواج، پاکستان رینجرز اور پولیس سمیت ملک کے تمام سیکیورٹی اداروں نے وطن عزیز کے لیے جس عزم، جذبے اور پیشہ ورانہ انداز میں خدمات انجام دی ہیں، وہ پوری قوم کے لیے باعثِ حوصلہ اور قابلِ تقلید ہیں۔ قوم کی حیثیت سے ہر شہری کو اپنی صلاحیت اور دائرۂ کار کے مطابق ملک کی ترقی، استحکام اور دفاع میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کی دفاعی قوت صرف مسلح افواج تک محدود نہیں ہوتی بلکہ عوام کا اپنی افواج کے ساتھ متحد اور پُرعزم ہونا بھی قومی طاقت کا اہم ذریعہ ہے۔ پاکستان کی تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ جب قوم اور افواج ایک صفحے پر ہوں تو ملک کو درپیش چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔ وائس چانسلر نے کہا کہ وطن عزیز کی حفاظت کے لیے ہماری افواج نہ صرف ملکی سرحدوں پر بلکہ اندرونِ ملک بھی اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہی ہیں۔ ایسے حالات میں نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ مستقبل میں جس بھی شعبے یا پیشے کا انتخاب کریں، اسے صرف ذاتی کامیابی تک محدود نہ رکھیں بلکہ قومی خدمت کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل کریں۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ ان کی سوچ ’’میں کیوں کروں؟‘‘ کے بجائے ’’ملک کے لیے میں اپنا کردار ادا کروں گا‘‘ ہونی چاہیے۔ اگر ہر شہری، بالخصوص نوجوان، اسی سوچ اور عزم کے ساتھ اپنی قومی ذمہ داریاں ادا کرے تو پاکستان کو ترقی اور خوشحالی کی نئی بلندیوں تک پہنچایا جاسکتا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد طفیل نے کہا کہ بحیثیت قوم ہمیں اپنے تاریخی ہیروز اور ان کی قربانیوں سے آگاہ ہونا چاہیے اور اپنی تاریخ کو کبھی فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال کے تناظر میں طلبہ پر زور دیا کہ کسی بھی خبر یا اطلاع کو آگے بڑھانے سے قبل اس کی مستند ذرائع سے تصدیق کی جائے اور غیر مصدقہ معلومات کے پھیلاؤ سے گریز کیا جائے۔ ان کے مطابق ایسی تقریبات نوجوان نسل کو قومی تاریخ، ہیروز اور ملک و قوم کے لیے دی جانے والی قربانیوں سے آگاہی فراہم کرتی ہیں۔اے ایس پی جمشید ڈویژن محمد عاشر نے کہا کہ ملکی سرحدوں، عوام، قومی خودمختاری اور مستقبل کا دفاع ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ شہداء، پولیس، رینجرز، سیکیورٹی اداروں اور دیگر شہریوں کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھتے ہوئے ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہوگا جہاں ان قربانیوں کے مقاصد محفوظ رہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل صرف سرحدوں کے دفاع سے وابستہ نہیں بلکہ تعلیمی اداروں، قومی اداروں، معیشت، عدلیہ اور دیگر شعبوں میں نوجوانوں کی قابلیت، دیانت داری اور کردار بھی ملک کی ترقی میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ یونیورسٹی طلبہ مستقبل کے ذمہ دار شہری اور قومی اداروں کے قائدین ہیں، اس لیے انہیں حب الوطنی کا عملی مظاہرہ، قانون کی پاسداری اور ذمہ دارانہ کردار اپنانا چاہیے۔قبل ازیں رئیس کلیہ فنون و سماجی علوم جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر ثمینہ سعید نے خطبۂ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے پروگرام کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی، جبکہ کرنل حیدر عباس نے یومِ دفاع کے حوالے سے تفصیلی پریزنٹیشن پیش کی۔ پروگرام میں یومِ دفاع اور افواجِ پاکستان سے متعلق مختلف دستاویزی فلمیں بھی پیش کی گئیں۔

Exit mobile version