BBC Urdu TV

توحید: بندے کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد

توحید: بندے کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد

تحریر: سعد محمد مدنی، فاضل مدینہ یونیورسٹی، مدینہ منورہ، سعودی عرب

اسلام کی پوری عمارت جس بنیادی عقیدے پر قائم ہے، وہ توحید ہے۔ توحید کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اس کی ذات، صفات، اختیارات اور عبادت میں یکتا مانا جائے اور عبادت کی ہر قسم صرف اسی کے لیے مخصوص رکھی جائے۔ انسان کی کامیابی، اس کی نجات اور اس کی آخرت کا دارومدار اسی بنیادی حقیقت کو سمجھنے اور اس پر قائم رہنے میں ہے۔

قرآن مجید انسان کو بار بار متوجہ کرتا ہے کہ جس اللہ نے اسے پیدا کیا، زندگی عطا کی اور بے شمار نعمتوں سے نوازا، عبادت کا حق بھی صرف اسی کا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’’جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں۔‘‘ (سورۃ محمد: 19)

یہاں قابلِ غور بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے توحید کے بیان کے ساتھ ہی استغفار کا حکم دیا اور پھر مؤمن مردوں اور عورتوں کے لیے مغفرت کی دعا کرنے کا ذکر فرمایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ توحید انسان کو تکبر نہیں بلکہ عاجزی، توبہ اور اللہ کے سامنے جھکنے کا راستہ دکھاتی ہے۔

عبادت صرف اللہ کے لیے

سورۃ الفاتحہ میں مسلمان ہر نماز کی ہر رکعت میں اقرار کرتا ہے کہ ’’ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔‘‘ (سورۃ الفاتحہ: 5)

یہ مختصر جملہ دراصل ایک مسلمان کے پورے عقیدے کا خلاصہ ہے۔ عبادت صرف اللہ کے لیے اور حقیقی بھروسہ بھی اسی پر۔ انسان دنیاوی معاملات میں ایک دوسرے سے جائز مدد لے سکتا ہے، مگر دل کا کامل اعتماد اور عبادت کا حق صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔

اسی حقیقت کو سورۃ الأنعام میں مزید واضح کیا گیا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی نماز، قربانی، زندگی اور موت سب اللہ رب العالمین کے لیے ہیں اور اللہ کا کوئی شریک نہیں۔ (سورۃ الأنعام: 162-163) قرآن کی یہ تعلیم انسان کو یہ شعور دیتی ہے کہ اللہ کی بندگی صرف چند عبادات تک محدود نہیں بلکہ پوری زندگی کو اللہ کی رضا کے تابع کرنا مطلوب ہے۔

سب سے بڑا گناہ کون سا ہے؟

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ اللہ کے نزدیک سب سے بڑا گناہ کون سا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ انسان اللہ کے لیے کسی کو شریک ٹھہرائے، حالانکہ اسی اللہ نے اسے پیدا کیا ہے۔

حوالہ: صحیح بخاری، حدیث 4477

یہ حدیث توحید کی عظمت کو انتہائی واضح کرتی ہے۔ جس ذات نے انسان کو عدم سے وجود بخشا، اس کے ساتھ کسی کو عبادت میں شریک کرنا حقیقت کے سب سے بڑے انکار کے مترادف ہے۔ اسی لیے شرک کو معمولی معاملہ سمجھنا انتہائی خطرناک ہے۔

اللہ کا حق اور بندے کی ذمہ داری

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ’’کیا تم جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ کا حق کیا ہے؟‘‘ انہوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کا حق یہ ہے کہ بندے صرف اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو بندے ایسا کریں، ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے یہ حق مقرر فرمایا ہے کہ انہیں عذاب نہ دے۔

حوالہ: صحیح بخاری، حدیث 7373؛ صحیح مسلم، حدیث 30

یہ حدیث بتاتی ہے کہ بندے کی زندگی کا بنیادی مقصد اللہ کی عبادت اور شرک سے اجتناب ہے۔ ساتھ ہی یہ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت کا بھی اظہار ہے کہ وہ توحید پر قائم رہنے والے بندے کے لیے اپنی رحمت اور فضل کا وعدہ فرماتا ہے۔

عبادت میں اخلاص کی اہمیت

صرف یہ کافی نہیں کہ انسان بظاہر نیکی کرے، بلکہ ضروری ہے کہ اس کی نیت بھی اللہ کے لیے خالص ہو۔ حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’’میں تمام شریکوں سے زیادہ شرک سے بے نیاز ہوں۔ جو شخص کوئی ایسا عمل کرے جس میں میرے ساتھ کسی دوسرے کو شریک کرے، میں اسے اور اس کے شرک کو چھوڑ دیتا ہوں۔‘‘

حوالہ: صحیح مسلم، حدیث 2985۔

یہ حدیث خاص طور پر انسان کو اپنی نیت کا جائزہ لینے کی دعوت دیتی ہے۔ نماز ہو، صدقہ ہو، تلاوت ہو، دعوت و تبلیغ ہو یا کوئی دوسری نیکی، اصل قدر اس وقت پیدا ہوتی ہے جب مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا ہو۔ لوگوں کی تعریف، شہرت اور نمود و نمائش نیکی کے اخلاص کو متاثر کر سکتی ہے۔

شرک کی باریک صورتوں سے بھی بچنا ضروری ہے

شرک ہمیشہ کھلی اور نمایاں صورت میں سامنے نہیں آتا۔ بعض اوقات انسان کے الفاظ، نیت یا دل کے رجحانات میں ایسی چیزیں داخل ہو سکتی ہیں جن کا اسے خود بھی احساس نہیں ہوتا۔ اسی لیے اہلِ علم نے شرک کی بعض پوشیدہ صورتوں سے خبردار کیا ہے۔

ایک روایت میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ شرک بعض اوقات اتنا پوشیدہ ہوتا ہے جیسے تاریک رات میں سیاہ پتھر پر چیونٹی کے چلنے کا احساس مشکل ہو۔ اس سے مراد یہ تنبیہ ہے کہ مسلمان اپنے عقیدے، نیت اور الفاظ کے بارے میں محتاط رہے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک کرنے سے ہر ممکن طور پر بچے۔

اسی مضمون کے تحت انسان کو اپنے دل میں یہ یقین پختہ رکھنا چاہیے کہ حقیقی اختیار، کامل قدرت اور مستقل تصرف صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔

سجدہ صرف اللہ کے لیے

قرآن مجید سورۃ فصلت میں واضح کرتا ہے کہ سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں؛ نہ سورج کو سجدہ کرو اور نہ چاند کو، بلکہ اس اللہ کو سجدہ کرو جس نے انہیں پیدا کیا ہے۔ (سورۃ فصلت: 37)

اس آیت کا پیغام نہایت واضح ہے: مخلوق کتنی ہی عظیم کیوں نہ ہو، وہ عبادت کی مستحق نہیں؛ عبادت اس خالق کے لیے ہے جس نے پوری کائنات کو پیدا کیا۔

اسی طرح سورۃ الجن میں فرمایا گیا کہ مسجدیں اللہ ہی کے لیے ہیں، لہٰذا اللہ کے ساتھ کسی کو نہ پکارو۔ (سورۃ الجن: 18)

یعنی دعا اور عبادت کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص رکھنا توحید کا بنیادی تقاضا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے بھی سجدے کے بارے میں نہایت واضح تعلیم دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر کسی انسان کو کسی دوسرے انسان کے لیے سجدہ کرنے کا حکم دینا ممکن ہوتا تو عورت کو اپنے شوہر کے لیے سجدہ کرنے کا حکم دیا جاتا۔ اس کا مقصد شوہر کے حق کی عظمت بیان کرنا تھا، سجدے کی اجازت دینا نہیں۔ چنانچہ شریعت میں عبادت کے طور پر سجدہ صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔

حوالہ: سنن الترمذی، حدیث 1159؛ سنن ابی داود، حدیث 2140۔

زندگی کا ہر پہلو اللہ کے لیے

سورۃ الأنعام کی تعلیم کہ ’’میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا اللہ رب العالمین کے لیے ہے‘‘ مسلمان کو زندگی کا ایک جامع تصور دیتی ہے۔ (سورۃ الأنعام: 162-163)

اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان کی عبادت گاہ صرف مسجد نہیں، بلکہ اس کی پوری زندگی اللہ کی بندگی کا میدان ہے۔ اس کا کاروبار، اس کی ملازمت، اس کے معاملات، اس کا گھر، اس کے اخلاق، اس کے تعلقات اور اس کی تمام جائز سرگرمیاں اللہ کی رضا کے تابع ہونی چاہئیں۔

توحید ہی اصل دعوت ہے

رسول اللہ ﷺ کی دعوت کا بنیادی مرکز توحید تھا۔ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ والی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ کا سب سے بڑا حق یہی ہے کہ بندے صرف اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔ (صحیح بخاری: 7373)

اسی طرح حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت ہمیں متنبہ کرتی ہے کہ اللہ کے نزدیک سب سے بڑا گناہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا ہے۔ (صحیح بخاری: 4477)

لہٰذا توحید محض ایک علمی موضوع نہیں بلکہ مسلمان کی عملی زندگی کی بنیاد ہے۔ جس دل میں توحید مضبوط ہوتی ہے، وہاں اللہ کی عظمت، اسی پر توکل، اسی سے دعا، اسی کے سامنے جھکنا اور اسی کی اطاعت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔

اختتامیہ

آج ہمیں اپنے عقیدے اور اپنی زندگی کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ ہم زبان سے اللہ کو اپنا رب مانتے ہیں، لیکن کیا ہماری عبادت بھی صرف اسی کے لیے ہے؟ کیا ہماری دعائیں، امیدیں اور خوف اللہ تعالیٰ کے لیے خالص ہیں؟ کیا ہماری نیکیوں میں دکھاوے اور شہرت کی آمیزش تو نہیں؟ کیا ہم اپنے قول و عمل میں اللہ کی وحدانیت کو حقیقی طور پر قائم کیے ہوئے ہیں؟

توحید انسان کو آزاد کرتی ہے؛ مخلوق کی غلامی، باطل سہاروں اور غیر اللہ کی محتاجی سے آزاد کرکے اسے صرف اپنے خالق کے سامنے جھکنا سکھاتی ہے۔

پس ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم توحید کو صرف زبان کا اقرار نہ بنائیں بلکہ اسے اپنے عقیدے، عبادت، اخلاق، معاملات اور پوری زندگی کا مرکز بنائیں۔ کیونکہ جس اللہ نے ہمیں پیدا کیا، حقیقی عبادت کا حق بھی اسی کا ہے، اور اسی کی طرف ہم سب کو لوٹ کر جانا ہے۔

Exit mobile version