BBC Urdu TV

بہاولپور وکٹوریہ ہاسپٹل کی ایمرجنسی میں مریضوں کو اس طرح دیکھا جاتا ہے جیسے بھیڑ بکریاں

بہاولپور وکٹوریہ ہاسپٹل کی ایمرجنسی میں مریضوں کو اس طرح دیکھا جاتا ہے جیسے بھیڑ بکریاں ہوں

گورنمنٹ اف پنجاب کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے ڈاکٹرز اپنے موبائلوں میں اپنے دوستوں کے ساتھ گپوں میں مصروف ہاؤس جاب ڈاکٹرز کو مریضوں کو مارنے کا ٹھیکہ دے دیا گیا ہے۔ ائے روز ایک دن میں چھ سات لوگوں کی اموات عام سی بات ہو گئی ہے کیونکہ ایمرجنسی میں سینیئر ڈاکٹر نہ ہونے کی وجہ سے ہاؤس جاب ڈاکٹر اپنی مرضی سے ٹریٹ کرتے ہیں جو کہ انہیں اس چیز کا پتہ بھی نہیں کہ اس مریض کے ساتھ ہوا کیا ہے صرف ائیڈیا کے بنا پر مریضوں کی دوڑیں لگواتے ہیں اور باہر سے ادویات بھی منگواتے ہیں ایمرجنسی کے حالات بھی بہت زیادہ خستہ ہیں لہذا یہ شعبہ بھی بزنس کی نظر ہوتا جا رہا ہے مریضوں کو اللہ کے بعد ڈاکٹر سے امید ہوتی ہے کہ وہ ان کو بچا لیں گے لیکن ڈاکٹر حضرات اپنی مستیاں اور اپنی نااہلی کی وجہ سے مریضوں کی جان لے رہے ہیں حکومت پنجاب ان مسائل کو دیکھیں اور اپنی مانیٹرنگ ٹیم سے ڈیلی بیس پر ان کا چیک اپ کروائیں تاکہ جو انہوں نے اپنے کنٹرول سیل بنائے ہوئے ہیں یشکایات سیل بنائے ہوئے ہیں ان کا ان کو ڈر ہو جو کہ وہ یہ کہتے ہیں کہ ہمیں کسی سے کوئی ڈر نہیں ہمارا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا لہذا گورنمنٹ کو چاہیے کہ ان چیزوں کو چیک کریں اور لوگوں کو ایمرجنسی کی تمام سروسز مہیا کریں تاکہ مریض ایک اعتماد کے ساتھ اس ادارے میں ا کر اپنے اپ کو محفوظ سمجھے نہ کہ غیر محفوظ۔

Exit mobile version