بھارتی ماہی گیر وں کی رہائی، نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس کی جانب سے حیا ایمان زاہد کا شکریہ ادا کیا گیا
کراچی (رپورٹ: کاشف شمیم صدیقی) نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس (این سی ایچ آر) کی قیادت میں لیگل ایڈ سوسائٹی کے تعاون سے ایک مہم کے نتیجے میں پاکستان کی حکومت نے ماہی گیروں کی وطن واپسی کا اقدام اٹھایا اس سلسلے میں آج 199 بھارتی ماہی گیروں کو پاکستانی جیلوں سے رہا کیا گیا۔
4 مئی 2023 کو محکمہ داخلہ، حکومت سندھ کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں حکومت پاکستان نے 199 ایسے بھارتی ماہی گیروں کو وطن واپس بھیجنے کا حکم دیا تھا، جن کی قومیت کیلئے بھارتی حکومت نے تصدیق کی تھی۔ آج مذکورہ حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ملیر جیل سے ایسے قیدیوں کی رہائی اور منتقلی کا آغاز کر دیاگیا ہے ۔اس موقع پر نیشنل کمیشن آف ہیومن رائٹس سندھ کی ممبر محترمہ انیس ہارون جیل سے رہائی اور منتقلی کے انتظامات کی نگرانی کے لیے موجود تھیں ۔
یہ بھارتی ماہی گیروں کے لیے خوشی اور راحت کا لمحہ تھا جو برسوں سے محض اس لیے قید تھے کہ انہوں نے غلطی سے سمندری سرحد عبور کر لی تھی۔ ماہی گیروں کی رہائی کا فیصلہ حکومت پاکستان کی طرف سے جذبہ خیرسگالی ہے، حکومت اس کے علاوہ جون میں 200 بھارتی ماہی گیروں کی دوسری کھیپ جبکہ اسی سال جولائی میں 100 قیدیوں کی آخری کھیپ کو رہا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
بدھ کو جاری کردہ پریس اسٹیٹمنٹ میں چیئرپرسن این سی ایچ آر، رابعہ جویری آغا نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا اور انسانی حقوق کے اس اہم مسئلے پر وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری اور سیکرٹری وزارت خارجہ کی کوششوں کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ "یہ قیدیوں اور ان کے اہل خانہ کے لیے راحت کا لمحہ ہے۔ ہم حکومت پاکستان، چیف ایگزیکٹو آفیسر، لیگل ایڈ سوسائٹی، حیا ایمان زاہد اور فشرمین فورمز کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے اہم مسئلےکیلئے ہمارے ساتھ تعاون کیا۔ ہم امید کرتے ہیں کہ بھارتی حکومت اس اقدام کا جواب خو ش دلی سے دے گی اور ماہی گیروں کی باہمی رہائی کے طریقہ کار کو ہموار اور موثر بنایا جائے گا” ۔ این سی ایچ آر کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت 650 سے زیادہ بھارتی ماہی گیر پاکستانی جیلوں میں جبکہ 100 سے زیادہ پاکستانی ماہی گیر ہندوستانی جیلوں میں قید ہیں ۔
این سی ایچ آر کی مہم یکم مئی کو شروع کی گئی جس میں ہندوستان اور پاکستان کی جیلوں میں قیدایسے قیدی جو حادثاتی طور پر سمندری سرحدوں کو عبور کر لیتے ہیں اُن کی رہائی کیلئے پُر زور آواز اٹھائی گئی ۔ مہم میں ایسے قیدیوں پر لاگو ہونے والے قومی اور بین الاقوامی معاہدوں پر عمل درآمد پر بھی زور دیا گیا۔ اس کے علاوہ پاکستان اور بھارت کی حکومتوں سے درخواست کی گئی کہ وہ زیر حراست ماہی گیروں کی واپسی کو یقینی بنانے اور مسئلے کا مستقل حل تلاش کرنے کے لیے مذاکرات کا شیڈول بنائیں۔
کمیشن کی طرف سے جمع کیے گئے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق 1,155 غیر ملکی قیدی ہیں، جن میں اکثر یت غیر ملکی ماہی گیروں کی ہے۔ این سی ایچ آر کی مہم کا آغاز ملیر جیل، کراچی کے دوروں اور داخلہ اور خارجہ امور کی وزارتوں سمیت اسٹیک ہولڈرز سے ملاقاتوں کے بعد ہوا۔
کمیشن نے ایک پالیسی بریف بھی تیار کی ہے جس میں مسائل کے پس منظر اور تفصیلات کا احاطہ کیا گیا ہے اور انسانی بنیادوں پر غیر ملکی ماہی گیروں کی ان کے آبائی ملک میں واپسی کو یقینی بنانے اور جیل کے وسائل پر دباؤ کو کم کرنے کے لیے فوری پالیسی اور طریقہ کاروضع کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ پالیسی پیپر اس مسئلے کے طویل مدتی حل پر زور دیتا ہے اور پاکستانی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ جوائنٹ جوڈیشل کمیشن میں اپنی خالی نشستوں کے لیے اراکین کا تقرر کرلے ۔ کمیشن نے بھارتی جیلوں سے پاکستانی ماہی گیروں کی واپسی میں مدد کے لیے بھارت کے چیئرپرسن این ایچ آر سی کو بھی اس بارے میں خط لکھاہے ۔
