BBC Urdu TV

بلی تھیلے سے باہر آگئی؟

بلی تھیلے سے باہر آگئی؟
سندھ کی تقسیم پر سوال سے پہلے، ماضی کے سوالات کا جواب کون دے گا؟
گزشتہ دنوں سندھ اسمبلی کے اجلاس میں محترمہ فریال تالپور صاحبہ کی ایک جذباتی تقریر نے ایک اہم سیاسی بحث کو جنم دیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے منتخب ارکان سے مخاطب ہوکر انہوں نے کہا کہ بینظیر بھٹو روزِ قیامت سندھ کی تقسیم کے معاملے پر ان سے سوال کریں گی۔
یہ بات اپنی جگہ، مگر سوال یہ ہے کہ اگر روزِ قیامت سوالات ہونے ہیں تو کیا صرف سندھ کی تقسیم ہی زیرِ سوال ہوگی؟
کیا یہ سوال بھی نہیں ہوگا کہ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے وقت ان کے سیاسی رفقا نے ان کا ساتھ کیوں نہ دیا؟
کیا حاکم علی زرداری سے منسوب مٹھائی تقسیم کرنے کے واقعے کی حقیقت بھی زیرِ سوال نہیں آئے گی؟
کیا شاہنواز بھٹو اور مرتضیٰ بھٹو کی ہلاکتوں کے بارے میں یہ سوال نہیں ہوگا کہ ذمہ دار کون تھے، تحقیقات کہاں تک پہنچیں اور انصاف کیوں نہ ہو سکا؟
کیا نصرت بھٹو کی زندگی کے آخری ایام اور ان کے ساتھ پیش آنے والے حالات بھی سوال کا موضوع نہیں بنیں گے؟
اور خود محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بارے میں یہ سوال نہیں ہوگا کہ انہیں کس نے قتل کیا، ذمہ دار کون تھے اور مکمل انصاف کیوں نہ ہو سکا؟
سب سے بڑھ کر کیا سندھ کے عوام یہ سوال نہیں کریں گے کہ گزشتہ کئی دہائیوں میں سندھ کی ترقی، تعلیم، صحت، روزگار، امن و امان، شہری سہولیات اور گڈ گورننس کے لیے کیے گئے وعدے کس حد تک پورے ہوئے؟
سندھ میں کرپشن، بدعنوانی، ناانصافی، حق تلفی، سیاسی و لسانی تعصبات اور حکمرانی کے مسائل کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کہاں ہیں؟
محترمہ فریال تالپور صاحبہ!
سندھ کی تقسیم کا معاملہ اپنی جگہ ایک سنجیدہ سیاسی موضوع ہے، لیکن تاریخ صرف ایک سوال نہیں کرتی؛ وہ ہر دور کے فیصلوں، کردار اور نتائج کا حساب بھی مانگتی ہے۔
لہٰذا سندھ کے عوام کا سوال ہے:
اگر بینظیر بھٹو روزِ قیامت سوال کریں گی تو کیا سندھ کے عوام بھی آج اپنی منتخب قیادت سے سوال کرنے کا حق نہیں رکھتے؟
سندھ، بالخصوص کراچی کے عوام، ان تمام اہم سوالات پر واضح، مدلل اور شفاف جواب کے منتظر ہیں۔
— جاوید صدیقی سینئر صحافی و کالم نگار

Exit mobile version