تحریر : عادل اقبال ملک ایڈووکیٹ(لندن )
“بابا کل بھی چھُٹی ہے “
چوہدری فواد حسین کی عدالت پر پیشی کے موقع پر چھوٹی بیٹی کے یہ الفاظ” بابا کل بھی چھٹی ہے” پاکستان میں انصاف کے اندھے نظام کو چھنِی کر گے ۔
نو مئ نو مئی نو مئی ہاں جو 9 مئی کے واقعات میں شامل تھے ان کو کڑی سے کڑی سزاد دیں اور جو شامل نہیں ان پر جبر و بربریت اور خوف کی اس اندھیری رات کو ختم کرنا ہوگا۔ جن جماعتوں نے “مفاہمت نہیں مزاحمت”، “اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے” اور “ووٹ کو عزت دو”کے نعرے دئیے پھر اُنھیں کس لئے نوازا جارہا ہے۔؟ وہ بھی تو 9 مئی کی سوچ کے وارث ہیں۔
جہلم سے تعلق رکھنے والے فواد حسین چوہدری کا خاندان سیاست میں ایک سو سال سے ہے – اُنھوں نے سیاسی افق پر نا صرف جہلم کا نام روشن کیا بلکہ ہمیشہ پاک فوج کی قربانیوں اور غازیوں کی بہادری کو ہر فورم پر اجاگر کیا ۔ جب وفاقی وزیر اطلاعات و نشرعات کا قلمدان سنبھالا تو 7 دسمبر 2018 دورہ برطانیہ کے دوران پاکستان ہائی کمیشن لندن میں ایک پُروقار تقریب میں پُرہجوم قومی و بین الاقوامی میڈیا کے سامنے “War Against Terrorism “میں پاک فوج اور قوم کی لازوال قربانیوں کا ذکر کیااور کشمیر کا بھی بھر پور مقدمہ لڑا۔جہلم شہداء اور غازیوں کی سرزمین ہے کوئی بھی پاک فوج کیخلاف ہرزہ سرائی کا مُرتکب نہیں ہوسکتا ۔
ایسی بلند و بانگ بین الاقوامی آواز کو آج نیب کے ایک جھوٹے مقدمے میں ملوث کرکے ناکردہ گناہ کی سیاسی سزا دی جارہی ہے جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ۔ چوہدری فواد حسین نے پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے سب سے پہلے نا صرف 9 مئی کے واقعات کی بھرپور مذمت کی بلکہ پاک فوج کے شہدا ء کی لازوال قربانیوں کو سراہا۔
تو کیا آج چوہدری فواد حسین کو عمران خان کےساتھ ڈٹ جانے کی سزا دی جارہی ہے ۔؟
تو اس کا جواب وہ فوٹیج ہیں جب فواد چوہدری کو ہیتھکڑیوں میں جکڑے بھاری پولیس کی نفری کیساتھ عدالت میں پیشی کیلئے لایا جاتا ہے تو ایک جانب دو چھوٹی چھوٹی بیٹیاں اور بیوی حِبا فواد منتظر نظر آتیں ہیں اور دوسری جانب فواد چوہدری کے چچا خاندان کے سربراہ بزرگ سیاسی رہنما و سابق وفاقی وزیر چوہدری شہباز حسین، فیصل فرید ایڈووکیٹ اور سیاسی رہنماء چوہدری فراز کے ہمراہ کمرہ عدالت سے انصاف کے متمنی نظر آتے ہیں۔
چوہدری فواد حسین سے اس قدر خوفزدہ ہیں کہ 8 فروری 2014 کے جنرل الیکشن میں اُنھیں بطور امیدوار حصہ لینے کے حق سے محروم کردیا گیا ۔ اُن کے للہ تا جہلم ڈوئل کیرج وے جیسے میگا پراجیکٹ کو کھٹائی میں ڈال کر جہلم کے لاکھوں لوگوں کو روزانہ کی بنیاد پر اذیت دی جارہی ہے –
ایک پولٹیکل مائنڈ رکھنے والے شخص کو پابند سلاسل کرنے سے نا صرف جمہوریت پسند ملک میں سیاسی سوچ کو دھچکا لگتا ہے بلکہ انسان کے بنیادی حقوق بھی متاثر ہوتے ہیں ۔ جب تک سیاسی عدم استحکام رہے گا معاشی ترقی کا خواب کبھی بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا چاہے جتنے مرضی وزیر خزانہ درآمد کیے جائیں ۔ عوام اب موجودہ نظام سے اکتا چکے ہیں اور 8 فروری کو 6 کروڑ سے زائد لوگوں نے اس ظلم و جبر ، گرفتاریوں کے خوف اور تمام تر ریاستی مشینری کے ہوتے ہوئے ووٹ کا بھر پور استعمال کیا اور بڑی تعداد نے اس فرسودہ اور ہائبرڈ نظام کو مسترد کردیا ۔
آج بھی پاکستان تحریک انصاف کو دیوار کے ساتھ لگانے کی بجائے دیوار میں چننے کی لگاتار کوشش جاری ہے اور ایسے میں گھٹن کے اس ماحول سے نکلنے کیلئے ضروری ہے کہ چوہدری فواد حسین جیسی متوازن شحصیت کے حامل شخص کو فلفور رہا کرنا چائیے ۔ پاکستان تحریک انصاف میں آج الیکشن میں کامیابیوں کے باوجود کوئی قد آور سیاسی شحصیت نظر نہیں آرہی جو حکومت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر عوام کے اصل مسائل کی طرف توجہ دلا سکے۔ پیشی پر عمران خان سے ملکر آنے والوں وکلاء کے بیانات آپس میں نہیں ملتے اور ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچتے نظر آتے ہیں اور یہ حقیقت اب ڈھکی چھپی نہیں ایسے میں پاکستان تحریک انصاف کے سینکڑوں سیاسی قیدیوں کی آواز کون بنے گا۔ ؟
نو مئی کا بیانیہ آٹھ فروری کو دفن ہوچکا لہٰذا اس کو بنیاد بناکر جمہوری و سیاسی سوچ رکھنے والوں کو مزید پریشان مت کریں ۔
اور یہاں حُسن تمام ہوا
یہاں سے آغاز وفا ہے
