BBC Urdu TV

اےآروائی، تاخیری حربوں سے باز نہیں آتا

اےآروائی، تاخیری حربوں سے باز نہیں آتا

رپورٹ: جاوید صدیقی جرنلسٹ کراچی

اےآروائی نیٹ ورک کی انتظامیہ کا ہمیشہ سے اپنے ملازمین کو تاخیر سے تنخواہ دینے کا سلسلہ رھا ھے جبتک چودہ پندرہ تاریخ نہ آئے چھوٹے تنخواہ دار شدید کوفت اور اذیت کا شکار رہتے ہیں، پاکستان کے امیر ترین مالکان ھونے کے باوجود ٹکے ٹکے پر رو تے ھیں اور جھوٹ کا پلندہ باندھتے ھیں کہ تنخواہ دینے کی استعطاعت نہیں، اگر ایسا ہی ہے تو نکھٹوں، نااہلوں اور تلوہ چاٹنے والوں کی تنخواہیں 80 لاکھ سے سوا کروڑ کیوں؟ کس آئین اور پیمرا کے اصول کے تحت تنخواہوں کا غیر متوازن سلسلہ جاری کیا ھوا ھے، چودہ فروری سنہ دو ہزار تیئس کو قلیل تنخواہ حاصل کرنے والوں کے اکاؤنٹ میں تنخواہ دی گئی، اےآروائی کے ایک ملازم جو ادھار لیکر اپنے معاملات حل کررھے تھے کچھ خوشی کا احساس ھوا کہ دیر سہی تنخواہ تو آگئی مگر جب وہ چودہ نومبر سنہ دو ہزار تیئس کی رات ساڑھے نو بجے کے ڈی اے چورنگی کے پاس اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کے اے ٹی ایم سے تیس ہزار روپے لیکر چند قدم آگے ہی بڑھے تھے کہ دو ڈکیت لڑکوں نے گن پوائنٹ پر مکمل رقم چھین لی اور تیزی سے فرار ھوگئے۔ یاد رھے یہ علاقہ حیدری تھانہ کی حدود میں آتا ھے۔ کراچی بھر میں آئے روز صحافیوں اور میڈیا پرسن کا لٹ جانا قابل تشویش اور قابل حیرت ھے۔ آئی جی اور ڈی آئی جیز سب ٹھیک ھے کہہ کر خود کو بلاوجہ تسلی دیتے ھیں، نااہلیت اور کرپشن کا اس سے بڑا کوئی ثبوت نہیں کہ ڈکیت دندناتے پھرتے ھیں اور سیکیورٹی نام کی کوئی شے نظر نہیں آتی۔

Exit mobile version