BBC Urdu TV

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈسیشن جج راولپنڈی محمد افضل مجوکہ نے امریکی نژاد خاتون وجیہہ فاروق

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈسیشن جج راولپنڈی محمد افضل مجوکہ نے امریکی نژاد خاتون وجیہہ فاروق سواتی کے اغوا و قتل کے مقدمہ میں برطانیہ میں مقیم مقتولہ کی ہمشیرہ اور بھانجے سمیت استغاثہ کے4گواہوں پر ملزمان کے وکیل کی جرح مکمل ہونے کے بعد سماعت ملتوی 15جولائی تک ملتوی کر دی ہے بدھ کے روز سماعت کے وقت مقدمہ کے مرکزی ملزم رضوان حبیب، اس کا والد حریت اللہ ڈرائیور سلطان احمداور گھریلو ملازمہ زاہدہ یوسف کو پولیس حراست میں عدالت میں پیش کیا گیا جبکہ ضمانت پر رہا شریک ملزم رشید احمد بھی عدالت میں موجود تھا مقدمہ کے ایک اور شریک ملزم یوسف مسیح کو بیماری کی وجہ سے عدالت میں پیش نہ کیا گیا اس موقع پر ملزمان کے وکیل طلعت محمود زیدی نے عامرہ فاروق،احمد فاروق، مجتبیٰ فاروق اورفائزہ فاروق پر جرح مکمل کر لی مزید کوئی گواہ عدالت مین موجود نہ ہونے کی وجہ سے عدالت نے سماعت 15جولائی تک ملتوی کر دی گزشتہ تاریخ پر عدالت نے برطانیہ میں مقیم مقتولہ کی ہمشیرہ فائزہ فاروق سواتی اور بھانجے مجتبیٰ فاروق کی ویڈیو لنک کے ذریعے شہادت قلمبند کی تھی جن پر ویڈیو لنک کے ذریعے ہی گزشتہ روز جرح کی گئی جبکہ عدالت میں موجود مزید 2گواہوں عامرہ فاروق اور احمد فاروق پر جرح مکمل کر لی گئی اس طرح اس مقدمہ میں استغاثہ کے29میں سے 19گواہوں کی شہادت اور ان پر وکلا کی جرح مکمل ہو چکی ہے یاد رہے کہ تھانہ مورگاہ پولیس نے وجیہہ سواتی کے اغوا کے الزام میں رواں سال 2نومبرکومغویہ کے بیٹے عبداللہ مہدی کی مدعیت میں تعزیرات پاکستان کی دفعات365 کے تحت مقدمہ نمبر577درج کیا تھا جس میں الزام تھا کہ اس کی والدہ اپنے بھانجے کے ساتھ 16اکتوبر کو فلائیٹ نمبر BA-0261کے ذریعے برطانیہ سے پاکستان آئی جبکہ انہوں نے 22اکتوبر کو فلائیٹ نمبرBA-0260سے واپس جانا تھا ایف آئی آرکے مطابق اس کی والدہ اور ان کے2مزید بچے سب امریکی شہریت کے حامل ہیں اور والد کی وفات کے بعد سے امریکہ میں ہی مقیم ہیں جبکہ اس کی والدہ اپنے سابقہ شوہر رضوان حبیب سے جائیداد کے معاملات سلجھانے کے لئے پاکستان آئی تھیں لیکن رضوان حبیب نے انہیں جائیدا دکی خاطر اغوا کیا اور بعد ازاں 17اکتوبرکو قتل کر دیاتھااس مقدمہ میں 5 ملزمان قیداور1 ملزم ضمانت پر ہے۔

رپورٹ : افتخار خٹک سے

Exit mobile version