اور عذاب کسے کہتے ہیں؟
(شیخ خالد زاہد)
گھر میں اگر کوئی بچہ اپنے بڑے کی کوئی بات نا مانے اور نافرمانی کرتا ہے تو وہ لازمی سزا کا مرتکب ٹہرتا ہے اور اسے فوراً سزاسنائی نہیں بلکہ دے دی جاتی ہے۔اسی طرح کا قانون تعلیمی اداروں میں بھی رائج ہوتا ہے اور آگے بڑھتے جائیں تو برسرِ روزگار ہونے کے بعد بھی یہ سلسلہ کچھ اس طرح جاری و ساری رہتا ہے کہ ادارے کی بنائی گئی حکمت عملی جسے انگریزی میں پالیسی کہتے ہیں کے خلاف نہیں جایا جاسکتا اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو ادارے کے بنائے گئے نظام کے تحت خلاف ورزی کرنے والا سزا کا مستحق ٹھرتا ہے جہاں ملزم کے مجرم ثابت ہوجانے پر نوکری سے خارج بھی کیا جاسکتا ہے۔ ادارہ ایک ایسے دستاویزجس سے آگاہی فراہم کی جاتی ہے پر دستخط بھی لے لئے جاتے ہیں جس پر ادارے کی حکمت عملی کے خلاف جانے کی صورت میں کیا سزا دی جاسکتی ہے۔
آج دنیاجہاں میں کیا کچھ چل رہا ہے اس کی بات نہیں کرتے، ہم اپنے گردونواح کی بات کرتے ہیں اپنے ملک، اپنے شہر، اور اپنے علاقے کی بات کرتے ہیں جہاں ایک طرف تو سماجی ابلاغ پر معلومات کے نا تھمنے والے طوفان میں اللہ، رسول ﷺ، صحابہ کرام ؓ اور بزرگان دین ؒ کی تعلیمات اپنے اسٹیٹس پر لگائے جاتے ہیں، مختلف سماجی ابلاغ کے صفحات بھردئے جاتے ہیں اور شائد یہ بتانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ہم کتنا کچھ جانتے ہیں، کتنے دین دار ہیں اور دیکھنے والے بھی اپنی اصلاح ان کے لگائے گئے پیغامات کی روشنی میں کریں۔ ہم یہاں ایک بات بھول جاتے ہیں کہ ہماری اسکرین پر بھی ایسے بے تحاشہ پیغامات آتے ہیں جنہیں ہم اپنی انگلی کی ہلکی سی جنبش سے آگے بڑھا دیتے ہیں اور بڑھاتے ہی چلے جاتے ہیں تو دوسروں سے کیا توقع کی جاسکتی ہے۔ دین کی شائد ایسی ترویج وہ لوگ بھی نہیں کرپائے جو گھر وں کے دروازوں پر دستک دیتے ہیں اور دین سیکھنے اور سمجھنے کی دعوت دیتے ہیں، جو مساجد میں بیٹھ کر دین کی بات سننے کی دعوت دیتے ہیں اور جو بڑے بڑے دینی اجتماعات کا انعقاد کرتے ہیں۔ ہم سب ایسے پیغامات پر دل کی علامت بناکر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ کیا خوب پیغام ہے اور ہمارے دل کے بہت قریب ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم ان پیغامات پر غور کرنے کا وقت رکھتے ہیں یا سیکنڈ ضائع کئے بغیر آگے بڑھ جاتے ہیں اور ویسے بھی ہم کسی بات کو سمجھنے کیلئے تو سنتے ہی نہیں بلکہ اپنی علمی قابلیت جتانے کیلئے سنتے ہیں اور بغیر وقت لئے جواب دیتے ہیں۔ جس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ کوئی بھی بات نا تو ہمارے دماغ میں جگہ بناتی ہے اور نا ہی دل پر اثر کرتی ہے بس زبان جواب دینے کیلئے بے چین رہتی ہے۔
اب یہاں ایک اور غور طلب بات یہ ہے کہ ایک اسلامی معاشرے میں دین کی ایسی ترویج ہونے کہ باوجود معصوم بچے بچیوں کے ساتھ بد فعلیاں اور ان کابے دردی سے قتل،زنا، شراب، بے انصافی،انااور نفس کی تسکین کیلئے بے رحمی کی مثالیں،چوری، بد عنوانی، تکبر غرض یہ کہ کون سی ایسی بد اعمالیاں ہیں جو ہم سے جانے انجانے سرزد نہیں ہورہی ہیں۔ ایک تو لوگ قتل ہورہے ہیں بلکہ سفاکی کی یہ حالت ہے کہ ٹکڑے تک کئے جا رہے ہیں۔ دل لرز رہے ہیں کلیجے پھٹ رہے ہیں نا مرنے والا جانتا ہے کہ اس کا کیا قصور ہے اور شائد نا مارنے والے اس امر سے واقف ہیں کہ وہ کیوں مار رہے ہیں۔ جیسے بس کوئی کسی کے حکم کی تعمیل کر رہا ہے۔ گزشتہ کچھ دنوں میں اجتماعی خود کشیوں کے واقعات پیش آئے ہیں جن میں ایک ہی خاندان کے افراد نے دنیا کی بے ثباتی سے تنگ آکر اپنی زندگیاں موت کے حوالے کردیں (اس میں ہمارا بھی حصہ ہے اس کی جوابدہی ہم سے بھی ممکن ہے)۔ معلوم نہیں اور کتنے ایسے واقعات معمول کا حصہ بن چکے ہیں کہ کہیں سے لاشیں مل رہی ہیں۔ اب ہم اتنے مضبوط ہوچکے ہیں کہ ایسے واقعات و سانحات ہمارے دلوں میں شائد کوئی تکلیف پیدا نہیں کرتے۔ ہم مادہ پرستی کی اعلی ترین مثال بنتے جا رہے ہیں، ہم نے روحوں کو جسموں سے پہلے کہیں دفن کر دیا ہے اور اب صرف جسم کیلئے زندگی گزار رہے ہیں۔ ہم بھول گئے ہیں کہ دنیا میں ہر شے بشمول ہمارے فنا ہونے کیلئے بنائی گئی ہے۔ ہم جب کسی مردے کو دفنانے قبرستان جاتے ہیں تو ہمیں شائد اب یہ احساس نہیں ہوتا کہ کل ہمیں بھی اسی طرح قبرستان میں لایا جائے گا اور زمین میں کھودے گئے گڑھے میں ڈال دیا جائے گا۔
ہم نے یہ مضمون جہاں سے شروع کیا تھا وہی واپس چلتے ہیں، ہم اپنے بچوں سے فرمانبرداری اور تابعداری کی توقع رکھتے ہیں، ہم دفتر میں ادارے کی پالیسی پر کاربند رہتے ہیں اور ادارے کی ترقی کیلئے سچی لگن کے ساتھ محنت کرتے ہیں، ہم اپنے مفاد کے دفاع کیلئے بنائے گئے اصولوں پر بھرپور طریقے سے کاربند رہتے ہیں۔ اب ہم آتے ہیں حقیقت پر مبنی اطاعت کی طرف، خالق کائنات نے انتہائی منظم طریقے سے کائنات کا نظام ترتیب دیا اور اس نظام سے ہم آہنگ کرنے کیلئے چنے ہوئے لوگوں کو متعین کیااور انہیں نبوت کے منسب پر فائز کیا، ان عظیم المرتبت لوگوں نے اللہ کا پیغام انسانون تک پہنچانا شروع کیا کائنات کے خالق کے ساتھ جوڑنے کی کوششیں کیں لیکن انسان سے سرکشی ٹھانی ہوئی تھی نامانے اور اللہ کے ان بر گزیدہ بندوں پر ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑے مگر ان لوگوں نے اللہ کے نظام کی سربلندی کیلئے اپنی زندگیاں وقف کردیں۔ مختصراً یہ کہ پھروہ وقت آیا جب دنیا میں تاریکی اپنے عروج پر پہنچ گئی، اللہ کو انسانوں پر رحم آیا اور آپ ﷺ کو رحمت العالمین بنا کر بھیجا گیا۔ آپﷺ کو بھی بھرپور جہالت کا سامنا کرنا پڑا لیکن آپ ﷺ دنیا کے لئے آخری امید بنا کر بھیجے گئے یعنی خاتم النبین بنا کر بھیجا گیا۔آپ ﷺ کی صورت میں اللہ کی واحدانیت پر یقین لانے کا اورکائنات سے ہم آہنگ ہونے کا آخری موقع فراہم کیا گیا۔ اللہ نے اپنے احکامات قران پاک کے ذریعے ہم تک پہنچائے اور نبی پاک ﷺ نے اپنی زندگی میں ان پر عملی مظاہرہ کر کے دیکھایااور بتایا کہ اپنی زندگیاں اللہ کے احکامات کے مطابق گزارو گے تو زندگی بھی سکون سے گزرے گی اور آخرت کے تو کیا ہی کہنے۔ اللہ کی کتاب قرآن پاک اور احادیث کا خزانہ رہتی دنیا تک کیلئے ہمارے درمیان موجود ہے۔اسی کے بارے میں اللہ رب العزت نے فرمایا ہے کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو، نبی پاک ﷺ کی تعلیمات کا ایسا اثر ہوا کہ آدھی سے زیادہ دنیا اسلام کی اطاعت کرنے لگی۔
پھر وقت نے کروٹ لی اور مسلمانوں میں اقتدار کی ہوس نے انگڑائیاں لینا شروع کردیں، اس اقتدار کے حصول کیلئے بھائی بھائی دست و گریباں ہوگئے اور اسلام کا شیرازہ بکھر تا چلاگیا۔ اللہ اور اللہ کے رسولﷺ کے احکامات کو عملی طور پر نظر انداز کیا جانے لگا۔ دنیا کے نظاموں کو اہمیت دی جانے لگی اور آسائشوں کا حصول ہماری زندگیوں کا مقصد عظیم بنتا چلا گیا، جن کے حصول کیلئے حرام حلال کی تمیز بھی نا رہی۔ یہ سمجھ لیا جائے کہ ہم نے دنیا کے امور میں قدرت کی بھرپور نافرمانی کرنا شروع کردی۔بچے کو تو اپنی نافرمانی کرنے پر مارپیٹ لیا گیا لیکن ہمیں نافرمانی کی سمجھ نہیں آسکی۔ اسٹیٹس لگانے سے یا سماجی ابلاغ کے صفحات بھرنے سے اذالہ نہیں ہوسکتا جب تک عملی طور پر کردار سازی نہیں ہوگی۔ بس یہ لکھ کر اس مضمون کا اختتام کرتے ہیں ہم اگر اپنے اعمال کا جائزہ لیں جن میں اول نمبر پر اللہ کی نافرمانی ہے تو موجودہ حالات کو ہم عذاب سے باآسانی تشبیہ دے سکتے ہیں، یا آپ بتائیں کہ اورکسے عذاب کہتے ہیں۔
