اللہ کی رضا کے لیے انصار مدینہ نے ایسی مہمان نوازی کی کہ غزوہ احد میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر دیا۔ امیر عبدالقدیر اعوان
غزوہ احد میں آپ ﷺ کے حکم کو سمجھنے کی غلطی سے آزمائش کی صورت بن گئی لیکن عین میدان کارزار میں اللہ کریم نے انہیں اپنی رضا اور معافی کا اعلان فرما کر سکھ اور سکینہ عطا فرمایا اور منافقین کو ظاہر کر دیا۔
امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبا رک کے روز خطاب ۔
انہوں نے کہا کہ موت بھی زندگی کی طرح ایک حقیقت ہے۔سب نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔صاحب ایمان بھی اس میں سے گزرے گا اور بے ایمان بھی گزریں گے لیکن ان دونوں میں فرق بہت ہے۔اس لیے ہمیشہ حق کا ساتھ دینا چاہیے حق سے بھاگنے سے کیا ہوگا کیا زندگی لمبی ہو جائے گی؟شہید ہونے کے لیے قتل ہونا پڑتا ہے جان دینی پڑتی ہے اللہ کے لیے اس کی رضا کے لیے،احیائے دین کے لیے،حق او رسچ کے لیے جو قتل ہوتے ہیں ان کا معاملہ اور ہے اللہ کریم فرماتے ہیں جو میری راہ میں جان دیتے ہیں انہیں مردہ نہ کہو وہ زندہ ہیں۔کئی مثالیں ہیں شہداء کی جب قبریں کھولیں گئیں تو ان کا وجود بلکہ ان کے لباس بھی سلامت تھے۔شہید کو موت کے وقت صرف اتنا احساس ہوتا ہے جیسے کسی چیونٹی نے کاٹ لیا ہو۔ویسے اگر موت کے بارے پڑھیں تو بندے کے رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں کہ میں کیسے اس عمل سے گزروں گا اتنا سخت وقت ہو گا۔ اللہ کریم معاف فرمائیں لیکن شہید کے لیے ایسا نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ ایمان اور صدق کے ساتھ تادم واپسی اطاعت الہی میں لگے رہے ان کے وجود بھی اللہ کریم نے قبروں میں سلامت رکھے۔برزرگان دین اور عالم دین کے کئی واقعات ملتے ہیں جب ان کی قبرمبارک کھولی گئی تو ان کے وجود سلامت ملے۔ دن رات دین کی تبلیغ ہو رہی ہے لوگ واعظ بھی کر رہے ہیں درس و تدریس بھی ہو رہی ہے تفاسیر بھی بیان فرمائی جا رہی ہیں لیکن مقصد کیا ہے َ؟ صرف ان باتوں سے شناسائی ہے یا یہ مقصود ہو کہ سارا حق میرے لیے بیان فرمایا گیا ہے تا کہ میں اس پر عمل کر سکوں تا کہ میری راہنمائی ہو سکے۔اگر ہم شہید ہونے کا جذبہ رکھتے ہیں تو ہماری فرض نماز کیوں چھوٹ جاتی ہے ہمارے لین دین میں کمی بیشی کیوں ہے،ہم سچ کیوں نہیں بول پاتے۔یہ وہ حقائق ہیں جن کو سمجھنے کی ضرورت ہے اللہ کریم ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں۔
آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔۴
