BBC Urdu TV

اسلام آباد ہائیکورٹ کو مینج کرنے کا تاثر غلط ہے۔مشیر وزارت قانون

اسلام آباد ہائیکورٹ کو مینج کرنے کا تاثر غلط ہے۔مشیر وزارت قانون

ہائیکورٹ کے جج کے تبادلے کیلئے مشاورت اور متعلقہ جج کی رضامندی ضروری ہے۔بیرسٹر عقیل ملک

اسلام آباد(نمائندہ خصوصی) گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے خط پر مشیر وزارتِ قانون بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ ہائیکورٹ کے جج کے تبادلے کے لیے مشاورت اور متعلقہ جج کی رضامندی ضروری ہے۔میڈیا کے ساتھ میں بات کرتے ہوئے بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کو مینج کرنے کا تاثر غلط ہے، ایسا ممکن نہیں ہے کہ ہائیکورٹ کے جج کا تبادلہ کرکے اسے سینیارٹی میں دوسری ہائیکورٹ کے جج کے نیچے لگا دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ابھی نہ مشاورت ہوئی ہے اور نہ ہی کوئی پراسیس شروع ہوا ہے، جب آئین کسی چیز کی اجازت دیتا ہے تو اُسے کوئی نہیں روک سکتا۔بیرسٹرعقیل ملک کا کہنا تھا کہ ہائیکورٹ کے جج کے تبادلے کے لیے مشاورت اور متعلقہ جج کی رضامندی ضروری ہے، جج کسی بھی ہائیکورٹ سے آ سکتا ہے، یہ نئی تعیناتی نہیں ہے جس کے لیے نیا حلف لینے کی ضرورت ہو۔

Exit mobile version