جہلم

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلام کے عظیم جرنیل کی توہین ناقابل برداشت ہے

حضرت عمر فاروق کے گستاخوں کوقانون کے مطابق سزا دے کر نشانِ عبرت بنایا جائے۔ حافظ عبدالحمید عامر

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلام کے عظیم جرنیل کی توہین ناقابل برداشت ہے

جہلم (محمد زاہد خورشید) حضرت عمر فاروق کے گستاخوں کوقانون کے مطابق سزا دے کر نشانِ عبرت بنایا جائے، ان خیالات کا اظہار جامعہ علوم اثریہ جہلم کے مہتمم اور مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے نائب امیر حافظ عبدالحمید عامر نے ایک مذمتی قرار پیش کرتے ہوئے کیا، مزید انہوں نے کہا کہ 26ستمبر کو ایک اذیت ناک اور شرمناک واقعہ رونما ہوا ہے کہ صوبہ سندھ کے شہر حیدر آبار میں چند شرپسند گماشتوں اور اسلام و ملک دشمن عناصر نے امیر المومنین خلیفہ ثانی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شان میں کھلے عام گستاخی کی ہے اور شرمناک صورت حال یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلام کے عظیم جرنیل اور عالم کفر کے لیے ڈراؤنا خواب سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ جیسی عظیم المرتبت شخصیت کا پُتْلا تک بناکر جلایا گیا ہے ۔افسوس ناک اور اذیت ناک صورت یہ بھی ہے کہ ایسا کرنے والے شر پسندوں میں سرکاری افسر اور سیاسی لیڈر کی نامراد اولاد بھی شامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ دل خون کے آنسو رو رہا ہے کہ یہ شر پسند اور ملک دشمن عناصر ہمارے وطن عزیز کو کس طرف لے جا رہے ہیں؟ ہم حکومت وقت اور متعلقہ اداروں سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ ایسے شرپسندوں کو فی الفور کٹہرے میں لاکر قانون کے مطابق سخت سے سخت سزا دی جائے اور ایسے بدترین واقعات کی روک تھام کے لیے سخت سے سخت قانون سازی کی جائے، اگر ہمارے مطالبے کو نہ سنا گیا تو مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان پورے ملک میں احتجاج کی کال دے گی۔ حافظ عبدالحمید عامر کی ہدایات کے مطابق جہلم کی بڑی مساجد میں اس واقعہ کی مذمت میں خطبات جمعہ میں قرار داد پیش ہوئی،جن میں مرکزی جامع مسجد اہل حدیث چوک اہل حدیث، جامع مسجد سلطان اہل حدیث، جامع مسجد محمدی اہل حدیث محمدی چوک، جامع مسجد علیا اہل حدیث بلال ٹاؤن، جامع مسجد رحمت الٰہی اہل حدیث بلال ٹاؤن ، مرکزی جامع مسجد اہل حدیث سوہاوہ اور دیگر مساجد شامل ہیں۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact : +92 300 5441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You