آج ہر سوُ پھیلا، اجُالا ہے ’نور‘ کا!
سمجھوں گا کہ حاصل ہوا،
مقصد ِ حیات،،
گر جاں جدا ہو جسم سے مدینے میں
اور روح کرے طواف،
’کعبے‘ کا،
اے کاش۔۔۔۔“
حشر میں ملے،
یوں میری محنتوں کا صلہ،
وہ ﷺ مسکرا کر،
دیکھیں مجھے،
اور میں کہہ دوں ’ صَلِ عَلیٰ‘
کیوں ڈر ہو مجھے لحد میں،
تنگیِء زمیں کا،
میں تو امتی ہوں،
رحمت للعالمین ﷺ کا،
گر کٹے عمر ساری،
اطاعت ِ رسول ﷺ میں،
کیا بھلا ہو پریشانی،
پھر جنت کے حصول میں!
٭٭٭
کاشف شمیم صدیقی
